نگران وزیرخزانہ ڈاکٹر شمشاداختر نے کہا ہے کہ کابینہ نے ایف بی آر کی تنظیم نو کی منظوری دی جس سے بیرونی قرضوں میں کمی آئے گی اور ٹیکس فائلرز میں بھی اضافہ ہوگا۔
ڈاکٹر شمشاداختر نے ایف بی آر کی تنظیم نو کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کی ری اسٹرکچرنگ کرنے جارہے ہیں جس سے ایف بی آر تنظیم نو سے ٹیکس فائلرز میں بھی اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے اس حوالے سے آج ایف بی آر کی تنظیم نو کی منظوری دی جس سے بیرونی قرضوں میں کمی آئے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے ٹیکس محصولات میں اضافہ ہو گا اور معاشی نظام کو دستاویزی شکل دینے میں مدد ملے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر میں ڈیجیٹائزیشن نظام کے نفاذ سے ٹیکس لیکیج میں کمی آئے گی اور ٹیکس نظام میں نہ آنے والے شبعہ جات بھی ٹیکس دائرہ کار میں شامل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی تنظیم نو سے کسٹم اور ان لینڈ ریونیو کے نظام میں بھی بہتری آئے گی۔
ڈاکٹر شمشاد اختر نے اس امید کااظہار کیا کہ آئندہ 5 سال میں ٹیکس کی شرح جی ڈی پی کے 18 فیصد تک بڑھے گی۔








