واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے بھارت کو 31 MQ-9B ڈرون فروخت کرنے کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ پینٹاگون نے بتایا ہے کہ اس معاہدے میں بغیر پائلٹ کے طیاروں کے ساتھ ان میں نصب میزائل اور دیگر آلات بھی بھارت کو فروخت کیے جائیں گے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق بھارت اور امریکا کے درمیان تقریباً 4 بلین ڈالر کی اس ڈیل پر کئی سالوں سے بات چیت چل رہی تھی۔ بھارت نے 2018 ءمیں فوجی استعمال کے لیے ایسے ڈرون حاصل کرنے کی بات شروع کی تھی لیکن اس سے قبل بھی غیر مسلح طیاروں میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ امریکی محکمہ خارجہ سے اجازت لینے کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ڈیل ہو جائے گی۔
اسے بھارت کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو ہتھیاروں کی خریداری کے معاملے میں روس کے قریب ہو رہا ہے۔ جمعرات کو اس معاہدے پر امریکی محکمہ خارجہ کی رضامندی حاصل کرنا ایک بڑی رکاوٹ کو ہٹانے کے مترادف ہے۔
بتایا گیا ہے کہ امریکی قانون سازوں نے کہا تھا کہ اس ڈیل پر رضامندی دینے سے پہلے بھارت کو امریکا میں سکھ علیحدگی پسند گروپتونت سنگھ پنو کے مبینہ قتل کی سازش کی معنی خیز تحقیقات کرنی چاہیے۔امریکا کے ڈیموکریٹک رکن پارلیمنٹ بین کارڈن سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے میں اپنا موقف تبدیل کیا جب صدر جو بائیڈن کی جانب سے امریکی سرزمین پر قتل کی سازش کی تحقیقات کے حوالے سے یقین دہانی حاصل کی۔
ان کا کہنا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ نے کہا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے اور بھارت میں بھی ایسی سرگرمیوں کے لیے احتساب ہونا چاہیے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی گذشتہ سال سرکاری دورے پر امریکا گئے تھے تو بائیڈن انتظامیہ نے بھارت سے اس معاہدے میں تیزی لانے کو کہا تھا۔ اس وقت بھارت نے خفیہ معلومات اکٹھا کرنے کی مہم کے ایک حصے کے طور پر MQ-9B طیارے لیز پر لیے ہیں۔ جمعرات کو پینٹاگون کی ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے پارلیمنٹ کو اس معاہدے کی منظوری سے آگاہ کیا تھا۔ پینٹاگون نے کہا ہے کہ ان طیاروں کا ٹھیکہ جنرل اٹامکس ایروناٹیکل سسٹمز کمپنی کو دیا گیا ہے۔ اس معاہدے میں مواصلات اور نگرانی کے آلات شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ 170 AGM 114R ہیل فائر میزائل اور 310 لیزر چھوٹے قطر کے بم بھی فروخت کیے جانے ہیں جو کہ بالکل درست ہیں۔
ڈرون بنانے والی کمپنی جنرل اٹامکس ایروناٹیکل نے MQ-9B کے بارے میں کہا ہے کہ یہ ایک بغیر پائلٹ والا طیارہ ہے جسے اڑایا اور ریموٹ سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ ایسے طیاروں کو Remotely Piloted Aircraft System (RPS) کہا جاتا ہے۔ اسے دور سے چلانے والا پائلٹ ہر چیز کو اسی طرح دیکھتا ہے جیسا کہ وہ عام طیارہ اڑاتے وقت کرتا ہے۔ یہ جدید ریڈار سسٹم اور سینسر سے لیس ہے۔ یہ خود بخود ٹیک آف اور لینڈ کر سکتا ہے۔ اسے سیٹلائٹ کی مدد سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور اسے ہر قسم کے موسم میں دن رات 40 گھنٹے سے زیادہ پرواز کیا جا سکتا ہے۔یہ 2155 کلوگرام وزن کے ساتھ اڑ سکتا ہے۔









