اسلام آباد(نیوزڈیسک)کمشنر راولپنڈی ڈویژن کے الزامات پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا ردعمل سامنے آگیا۔
سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا کہنا تھا کہ الزامات تو کوئی کچھ بھی لگاسکتا ہے، الزام لگانا آپ کا حق ہے تو ثبوت بھی دے دیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہاں کچھ بھی الزام لگادیں، کل کو چوری کا الزام لگادیں، قتل کا الزام لگا دیں، ثبوت بھی تو پیش کریں، ان میں ذرا سی بھی صداقت ہو ثبوت پیش کریں۔
صحافی نےکہا کہ لوگ آپ پر الزام لگارہے ہیں؟ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مجھ پر الزام لگارہے ہیں! کوئی نئی بات بتائیں، الیکشن سے میرا کوئی تعلق نہیں، میرا کردار ایک حد تک الیکشن کروانے میں ہے۔
🚨🚨CJP Qazi Faez Isa says the easiest thing is to make false and baseless allegations without any evidence – interview to @imranwaseem92 pic.twitter.com/qCdDP6u0d8
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) February 17, 2024
خیال رہےکہ کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ نے عام انتخابات میں بے ضابطگیوں کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کا کہنا تھا میں نے انتخابات کے دوران راولپنڈی ڈویژن میں نا انصافی کی، ہم نے ہارے ہوئے امیدواروں کو 50، 50 ہزار کی لیڈ میں تبدیل کر دیا، راولپنڈی ڈویژن کے 13 ایم این ایز ہارے ہوئے تھے، انہیں 70، 70ہزار کی لیڈدلوائی اور ملک کے ساتھ کھلواڑکیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن میں ہونے والی دھاندلی میں الیکشن کمیشن آف پاکستان، چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس پاکستان بھی ملوث ہیں، میرے ساتھ ان لوگوں کو بھی اپنے عہدوں سے مستعفی ہونا چاہیے۔
لیاقت علی چٹھہ کا کہنا تھا راولپنڈی ڈویژن میں انتخابی دھاندلی کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کرتا ہوں، مجھے راولپنڈی کے کچہری چوک میں سزائے موت دی جائے۔









