بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حکومت سازی: شہبازشریف کی زیرصدارت ن لیگ کا اجلاس  ،پی پی کی تجاویز پر غورجاری

وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کیلئے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے۔اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر شہباز شریف کی صدارت میں ن لیگ کی مشاورت جاری ہے، نواز شریف سے مشاورت کے بعد پیپلزپارٹی کی تجاویز پرغور کیا جارہا ہے۔
مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان مذاکرات کے 5 دورے منعقد ہوچکے ہیں۔
دونوں جماعتوں کی رابطہ کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کا آخری دور گزشتہ روز سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پرمنعقد ہوا۔

نجی ٹی وی کے مطابق مذاکرات میں تعطل کے خاتمہ کیلئے جلد دونوں جماعتوں کی قیادت میں رابطہ ہوگا، دونوں جماعتوں کے درمیان پاور شیئرنگ فارمولے پر گفتگو کی جائے گی۔
وزارتوں اور آئینی عہدوں سے متعلق فارمولا طے کیا جائےگا، پیر کو ہونے والی بات چیت سے کمیٹیوں نے قائدین کو آگاہ کیا۔
اس ساری صورتحال میں صدر ن لیگ شہبازشریف بھی رابطہ کمیٹی کے سربراہ اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے۔
اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر مسلم لیگ ن کی قیادت میں باہمی مشاورت جاری ہے۔ اس مشاورت میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، اعظم نذیرتارڑ اور ملک احمد خان موجود ہیں۔
اس حوالے سے قائد مسلم لیگ ن نواز شریف سے بھی مشاورت کی گئی، پیپلزپارٹی کی تجاویز پرغور کیا جارہا ہے۔

دوسری طرف چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سازی کے لیے مذاکرات میں مسلم لیگ ن پر غیرسنجیدہ کا الزام عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ن لیگ اپنا موقف تبدیل کرے، پی پی اپنے موقف میں تبدیلی نہیں لائے گی۔

سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں بلاول نے کہا تھا کہ اگر میں نے مسلم لیگ کو ووٹ دینا ہے تو میں اپنی شرائط پر ن لیگ کو ووٹ دوں گا، میں ن لیگ کی شرائط پر انہیں ووٹ کیسے دوں۔

انہوں نے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی اپنے موقف پر قائم ہے اور وہ تبدیل نہیں کرے گی۔ اگر کسی اور کو اپنا موقف تبدیل کرنا ہے تو پیشرفت ہو سکتی ہے، اگر موقف تبدیل نہ ہوا تو جمود آجائے گا جو پاکستان کی جمہوریت اور استحکام کے لیے سود مند نہیں ہوگا۔

اس کے علاوہ پیپلزپارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا تھا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے منشور میں فرق ہے، پیپلز پارٹی کا منشور اُس وقت نافذ ہوگا جب ہمارا وزیر اعظم ہوگا، 3 سال اور 2 سال وزیر اعظم بننے والا کوئی ایسا فارمولا زیر غور نہیں ہے۔