بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ملک کے سیاسی منظر پر بڑی کامیابی، اتحادی جماعتوں کے درمیان ڈیڈ لاک ختم

اسلام آباد(ویب ڈیسک) الیکشنز ایکٹ2017 کے مطابق صدر مملکت21 یوم کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلا نے کے پابند ہیں اور ان تقاضوں کی تکمیل کیلئے29 فروری کو اجلاس بلانا ضروری ہے اس طرح متعینہ تاریخ میں اب صرف8 دن باقی رہ گئے ہیں.

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اس حوالے سے اس موقع کی روایتی تیاریوں میں مصروف ہے تاہم سیاسی سطح پر ہونیوالے واقعات جوڑ توڑ کی سرگرمیاں اور پورے ماحول میں غیر یقینی کیفیت ان اندیشوں پر بحث کرنے میں مصروف ہے کہ کیا وقت مقررہ پر سیاسی جماعتیں ان فیصلوں پر پہنچ پائیں گی یا نہیں جو 29 فروری تک ہونے لازمی ہیں۔

اس صورتحال میں کہ دو بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کی رابطہ کمیٹی کے درمیان مذاکرات میں پانچ ادوار نتیجہ خیز ثابت نہیں ہورہے تھے اور اتفاق رائے میں تاخیر سے سیاسی ڈیڈ لاک جیسی صورتحال کا تاثر مل رہا تھا۔ جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف ہنگامی طور پر لاہور سے اسلام آباد پہنچے تھے جہاں اپنی اپنی مصروفیت کے طور پر انہوں نے مری میں موجود سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے تفصیلی مشاورت کی جبکہ سنیٹر اسحاق ڈار نے رابطہ کمیٹی کے اب تک ہونیوالے مذاکرات کے بارے میں سابق وزیراعظم کو بریفنگ دی .

میاں نواز شریف سے مشاورت اور رہنمائی حاصل کرنے کے بعد شہباز شریف نے اسلام آباد میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے ملاقات کی یہ ملاقات منسٹر کالونی میں واقع سنیٹر اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر ہوئی اس ملاقات میں ہونیوالی حل طلب معاملات بالخصوص حکومتی، انتظامی اور پارلیمانی مناصب کی تقسیم کے حوالے سے ہونیوالی گفتگو’’ بریک تھرو‘‘ ثابت ہوئی اور تمام معاملات پر اتفاق رائے ہوا۔ دونوں جماعتوں کے بڑوں کے درمیان شراکت اقتدار کا فارمولہ طے پا گیا اور اس طرح غیر یقینی صورتحال ختم ہوئی۔