بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

تمام فیصلے نوازشریف کی مشاورت سے ہورہے ہیں،راناثنااللہ

اسلام آباد: مسلم لیگ(ن)کے رہنما راناثنااللہ نے کہاہےکہ  تمام فیصلے نوازشریف کی مشاورت سے ہورہے ہیں اتحادی حکومت اچھاکرے گی تو سب کو کریڈٹ ہوگا،براکرے گی تو  سب کوڈس کریڈٹ ہوگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے  راناثنااللہ نے کہاکہ  یہ ایک اتحادی حکومت ہے جس میں  تین بڑے پارٹنرن لیگ،پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم ہیں،اتحادی حکومت اچھاکرے گی تو سب کو کریڈٹ ہوگا،براکرے گی تو تو  سب کوڈس کریڈٹ ہوگا۔انہوں نے کہاکہ کچھ چیزیں طے ہونے کے بعد پبلک ہوگئیں ،کچھ نہیں ہوئیں،تمام فیصلے نوازشریف کی مشاورت سے ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ  شہبازشریف نے 13 جماعتوں کی حکومت 16 ماہ چلائی،پی ٹی آئی نہ کسی کے ساتھ بیٹھناچاہتی ہے نہ بات کرناچاہتی ہے ، کوئی ہمیں مسائل حل کرنے نہیں دے گا تو خدانخواستہ ملک ڈیفالٹ کرجائے گا،

ایک اورٹی وی انٹرویومیں   رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی وزارتیں لے یا نہ لے، وہ ہمارے ساتھ ہے، پیپلز پارٹی والے اگر ہمیں وزارت عظمیٰ کا ووٹ دے رہے ہیں تو ہم سے صدارت کا ووٹ بھی لے رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی حکومت میں شمولیت سے ہچکچاہٹ سے متعلق سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مخلوط حکومت کے ہر فیصلے کے ذمہ دار سب ہوں گے، بلاول بھٹو کوئی بھی وزارت لینا نہیں چاہتے۔
انہوں نے کہا کہ 16 ماہ کے دوران 13 جماعتوں کے ساتھ حکومت کی، شہباز شریف کو مخلوط حکومت چلانے کا تجربہ ہے، پہلے 13جماعتیں تھیں اب صرف تین جماعتیں ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب میں گورنر شپ کا مطالبہ کیا ہے، ایم کیو ایم کو بھی وزارتیں باہمی مشاورت سے دی جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم نے آئینی ترمیم کی بات کی ہے، ایم کیو ایم فنڈز ڈسٹرکٹ کو دینے کی بات کر رہی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مخلوط حکومت کو مضبوط رکھنا ہماری مجبوری نہیں، معاشی استحکام لانا صرف ہمارا ایجنڈا نہیں سب کا ایجنڈا ہے، دوسرا کوئی آئے گا تو فتنہ یا افراتفری کا ایجنڈا لائے گا، عوام دیکھ رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی حکومت بنانا چاہتا ہے تو نمبرز پورے کرے اور بنالے۔
انہوں نے کہا کہ کئی مرتبہ پی ٹی آئی سے بات کرنے کی کوشش کی گئی، ان کا ایجنڈا صرف فتنہ اور افراتفری ہے، ان کا ایجنڈا ملک کو تباہ کرنا اور ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانا ہے، کسی کے ساتھ مل کر بیٹھنا ان کی کتاب میں ہی نہیں، ہم نے کئی مرتبہ ہاتھ بڑھایا ہے، لیکن وہ تو گالیاں دیتے ہیں، بانی پی ٹی آئی کا ایجنڈا ہے کہ ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانی ہے۔
کیا حکومت بنا کر خواتین اور دیگر سیاسی قیدیوں کیلئے عام معافی کا اعلان کیا جائے گا؟ اس سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر یہ سیاسی قیدی ہیں تو صبح ہی چھوڑ دینا چاہئے، یہ لوگ سیاسی قیدی ہے ہی نہیں تو رہا کیسے کیا جاسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالتیں جس کو بے گناہ سمجھیں رہا کردیں، نو مئی کو ان لوگوں نے سیاسی احتجاج نہیں کیا تھا ریاست پر حملہ تھا، کیا گھر میں داخل ہو کر آگ لگانا سیاسی کارکنوں کا کام ہے؟ انہوں نے تو میرے گھر کو بھی آگ لگانے کی کوشش کی، یہ شخص ملک کو آگ لگانا چاہتا ہے۔
مسلم لیگ (ن) پنجاب کا پہلا اسمبلی اجلاس کب بلائے گی؟ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اجلاس مسلم لیگ (ن) تو نہیں بلائے گی، اسپیکر ہی نومنتخب اسمبلی کا اجلاس بلائیں گے، امکان ہے کہ 29 فروری تک اجلاس بلالیا جائے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل نے اگر مخصوص نشستوں کی لسٹ نہیں دی تو اب نہیں دے سکتے، سنی اتحاد کونسل کی وجہ سے مخصوص نشستیں نہیں روکی جاسکتیں۔
گزشتہ روز فوج اور اداروں کے حوالے سے سینیٹ میں کی گئی تقاریر کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ایسی ہی تقاریر سینیٹ میں 2018 میں بھی تقاریر کی گئی تھیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ہم نے بھی ایسی تقاریر کی تھیں جس پر اس وقت کے وزیراعظم نے مقدمات بنانا شروع کردیے تھے، لیکن ہمارے وزیراعظم شہباز شریف ایسا کچھ نہیں کریں گے، شہباز شریف نے ایسا کیا تو مٰں ان کو روکوں گا۔
نواز شریف کے وزیراعظم نہ بننے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ نواز شریف ملک میں اکثریت چاہتے تھے، ہمیں اکثریت نہیں ملی، اب مخلوط حکومت بنانا پڑ رہی ہے، موجودہ صورتِ حال میں شہباز شریف زیادہ موزوں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف مسلم لیگ ن کے قائد ہیں اور ن لیگی حکومت کا کوئی بھی عمل ان کی اجازت کے بغیر نہیں ہوگا۔
انٹرنیٹ بندش کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ بندش کا فیصلہ کرنے کا اختیار تو وزارت داخلہ کا ہی ہے، لیکن وزیراعظم کو اعتماد میں لے کر ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں