اسلام آباد (طارق محمود سمیر) پاکستان کے اندر پر امن اور آئینی طریقے انتقال اقتدار کا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے ، نومنتخب وزیراعظم میاں شہبازشریف نے حلف اٹھا لیا ہے ، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان سے حلف لیکر اپنی ماضی کی غلطی کا ازالہ کر لیا ہے جبکہ ایوان صدر میں ہونے والی تقریب میں میاں نوازشریف ،آرمی چیف اور بلاول بھٹو زرداری خصوصی توجہ کا مرکز بنے رہے ، عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد وزیراعظم شہبازشریف ڈائس سے سیدھے اپنے بھائی میاں نوازشریف کے پاس آئے اور انہیں گلے ملے اس کے بعد وہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے ملے ،اسی دوران سعودی عرب کے سفیر نے بھی وزیراعظم شہبازشریف اور نوازشریف سے مصافحہ کیا اور انہیں مبارکباد دی جبکہ چینی سفیر نے بھی وزیراعظم اور ن لیگ کے قائد سے ہاتھ ملایا اور مبارکباد دی۔ تقریب میں آج ایک روایت کی خلاف ورزی کی گئی جو سمجھ سے بالاتر ہے اور سرکاری طور پر اس کی وجہ نہیں بتائی جارہی ، ماضی میں ہمیشہ جب بھی کوئی وزیراعظم حلف اٹھاتا تھا تو بینکویٹ ہال میں وزیراعظم اور صدر مملکت مہمانوں سے مصافحہ کیا کرتے تھے ، آج 30منٹ تک مہمان انتظار کرتے رہے لیکن نہ صدر آور نہ ہی وزیراعظم ، اس کی جو بھی وجہ ہو یہ مناسب طریقہ نہیں ہے ،دوسری جانب الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں نہ دینے کا فیصلہ سنا دیا ہے ،یہ متفقہ فیصلہ ہے تاہم صرف ایک نقطے پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک رکن نے یہ اختلاف کیا ہے کہ ان نشستوں کو خالی رکھا جائے اور باقی جماعتوں کو نہ دیا جائے ، الیکشن کے بعد اس حوالے سے قانونی ماہرین یہ رائے دیتے رہے ہیں چونکہ سنی اتحاد کونسل نے خود بھی الیکشن نہیں لڑا اور نہ ہی کسی کو پارٹی ٹکٹ دیا اور مخصوص نشستوں کی فہرست دی ، الیکشن شیڈول کے مطابق جمع نہیں کرائی گئی لہذا اس بات کے امکانات کم ہیں کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں دی جائیں گی ، الیکشن کمیشن نے ایک تفصیلی فیصلہ دیا ہے اور اس میں 26فروری کے سنی اتحاد کونسل کے ایک خط کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں یہ اعتراف کیا گیا تھا کہ سنی اتحاد کونسل نے کسی بھی الیکشن لڑنے کیلئے ٹکٹ نہیں دیا اس لئے مخصوص نشستوں کی فہرست بھی جمع نہیں کرائی تھی بہر حال یہ ایک آئینی ادارے کا فیصلہ ہے اور تحریک انصاف نے اس فیصلے کو انصاف کا قتل قراردے دیا ہے اور اس کے خلاف عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا ہے ،سینیٹر علی ظفر کا یہ موقف ہے کہ الیکشن کمیشن نے آئین اور قانون کے منافی فیصلہ کیا ہے ،یہ کہاں کا انصاف ہے کہ سنی اتحاد کونسل کو جو نشستیں نہیں دی جارہیں وہ دوسری سیاسی جماعتوں کو کیسے دی جاسکتی ہیں کیونکہ 90سے زائد قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان اس کے علاوہ ہیں جو تحریک انصاف کی حمایت سے جیتے ہیں ان کی نشستیں باقی جماعتوں کو چور دروازے سے دینا غیر آئینی کام ہے ، وزیراعظم کا الیکشن بھی متنازعہ ہوگیا ہے اور مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو دیے بغیر صدارتی الیکشن بھی متنازعہ ہو جائے گا۔ دیکھتے ہیں یہ معاملہ کب عدالت میں چیلنج کیا جاتا ہے اور حتمی فیصلہ عدالت سے ہی آئے گا ۔









