بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سپریم کورٹ نے آئین پاکستان میں ترمیم کیسے کر لی؟سوشل میڈیا پر عدالتی فیصلے پرمختلف تبصرے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ٹوئٹر کو سوشل میڈیا کا ایسا پلیٹ فارم شمار کیا جاتا ہے جہاں ایکٹوازم کا رنگ ہر موسم میں غالب رہتا ہے، اس کے باوجود مائکروبلاگنگ پلیٹ فارمز سنجیدہ موضوعات کے بجائے ہلکے پھلکے موضوعات میں زیادہ دلچسپی لیتا ہے البتہ پاکستان میں منگل کی شام کو ٹوئٹر کی ٹرینڈز لسٹ اس وقت نسبتاً جدا منظر پیش کر رہی تھی جب سرفہرست ٹرینڈ ’سپریم کورٹ‘ ایک آئینی معاملے کی تشریح سے متعلق تھا۔
خاتون ٹیلی ویژن میزبان نادیہ مرزا نے فیصلے کے تناظر میں سوال کرتے ہوئے لکھا کہ مطلب منحرف اراکین کا ووٹ لے کر وزیراعلی بننے والے حمزہ شہباز اب وزیراعلی نہیں رہے؟
ٹیلی ویژن میزبان ناصر بیگ چغتائی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے ایک پہلو کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ منحرف اراکین کی تاحیات نااہلی کی خواہش ناتمام۔ صدر کے ریفرنس کا چوتھا سوال صدر کو واپس۔
خاتون لکھاری عفت حسن رضوی نے اپنے تبصرے میں معاملے کو ’ملک کا خسارہ‘ قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کہ سپریم کورٹ فیصلے کے بعد گذشتہ چار ماہ کی پاکستانی سیاست کو دوبارہ دیکھیے، لوٹوں کے بازار کو دیکھیے، سندھ ہاؤس میں منحرفین کےاکٹھ کو دیکھیے، منحرف ارکان کی بارگین کو دیکھیے، سیاسی جماعتوں کا کیا ہے باریاں لے کر پھر آجائیں گی۔مدثر سعید نے اپنے ٹویٹ میں اہم نکتہ اٹھایاکہ انحراف کی صورت میں پارٹی سربراہ شوکاز جاری کرنے کے بعد تحریری ڈیکلریشن دے گا۔سپریم کورٹ کہتی ہے انحراف کی صورت ازخود ڈیکلریشن ہو جائے گا ،سپریم کورٹ نے آئین کی تشریح کے دوران آئین پاکستان میں ترمیم کیسے کر لی۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک آئینی معاملے پر اور سیاست کے نسبتا سنجیدہ پہلو سے متعلق تھا لیکن سوشل میڈیا پر آتے ہی اس پر معمول کے مطابق ہلکے پھلکے انداز کے تبصروں کا سلسلہ زیادہ دیر رکا نہیں رہ سکا۔
دو دہائیوں بعد پاکستان کے دورے پر آنے والی آسٹریلوی ٹیم کے میچز ملک کے سیاسی حالات کے پیش نظر مارچ کے مہینے میں راولپنڈی سے لاہور منتقل کر دیے گئے تھے۔ اس پس منظر کو موضوع بناتے ہوئے ماریہ راجپوت نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب تو گئے۔ بس ویسٹ انڈیز سیریز اب راولپنڈی میں ہی رہنے دو۔