اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آبادہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خاتون رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کو فوری رہاکرنے اور ان کی گرفتاری کی جوڈیشل انکوائری کرانے کا حکم دے دیا۔ہفتہ کی شب شیری رحمان کو عدالتی حکم پر رات ساڑھے گیارہ بجے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کیا گیا۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطر من اللہ نے شیریں مزاری کی گرفتاری کے معاملے کی سماعت کی ۔ پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر، فرخ حبیب، اعظم سواتی، حلیم عادل شیخ زلفی بخاری، فواد چوہدری، قاسم خان سوری، شبلی فراز اور وکلاء کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجود رہے۔دوران سماعت عدالت نے شیریں مزاری نے کہاکہ دن ڈیڑھ بجے میری گاڑی کو روکا گیا ، پولیس اہلکاروں نے کہاکہ گاڑی سے باہر نکلیں آپ سے بات کرنی، ۔انہوں نے کہاکہ خواتین اہلکاروں نے مجھے گاڑی سے گھسیٹ کر نکالا۔میں نے کہاکہ وارنٹ دکھائیں، ایک سادہ کپڑوں والے نے میرا موبائل چھیناجوابھی تک واپس نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ پولیس اہلکار مجھے موٹروے پر لے گئے اور چکری کے پاس گاڑی روکی۔ایک ڈاکٹر آیااور کہاکہ آپ کا طبی معائنہ کرناہے کہ آپ سفر کے قابل ہیں یا نہیں ،میں نے میڈیکل کرانے سے انکارکیا جس کے بعد مجھے گاڑی میں بٹھایااور کہاکہ انہیںواپس لے کر جارہے ہیں عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو کس کے حکم پر گرفتار کیا گیا ؟ جس پرشیر یں مزاری نے کہاکہ نہیں پتا جومجھے لاہور لے کر جارہے تھے کہ انہوں نے کہاکہ راناثنااللہ اور شہبازشریف۔ دوران سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہاکہ ہر حکومت کا ردعمل مایوس کن رہا۔رکن قومی اسمبلی کو سپیکرکی اجازت کے بغیر گرفتارنہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے وفاقی حکومت کواس معاملے کی جوڈیشل انکوائری کرانے کی ہدایت کی اور کہاکہ جوڈیشل کمیشن قائم کرکے ٹی او آرعدالت میں جمع کرائے جائیں۔قبل ازیں عدالت میں پیشی کے موقع پر شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ مجھے رانا ثناء اللہ نے گرفتار کیا، مجھے لاپتہ ہونے کا پہلی بار تجربہ ہوا ہے۔ شیریں مزاری نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے کہا کہ مجھے تو فون بھی نہیں کرنے دیا گیا، میرے ساتھ جو کچھ ہوا ہے میں عدالت کو بتاؤں گی۔
شیریں مزاری کی گرفتاری،اسلام آبادہائی کورٹ کا حکومت کو جوڈیشل انکوائری کرانے کا حکم








