بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستانی سیاست دان پر بچوں سے جنسی جرائم کے الزام میں برطانیہ میں مقدمہ

لندن (ویب ڈیسک)پاکستانی سیاست دان پر بچوں سے جنسی جرائم کے الزام میں مقدمہ، خان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہیں، برطانیہ کے پراسیکیوشن کے الزامات کی تردید کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق مانسہرہ، ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے معروف سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر پاکستانی سیاست دان پر بچے سے جنسی زیادتی کے دو مبینہ الزامات پر مقدمہ چل رہا ہے۔

تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ کس طرح 60 سالہ محمد خرم خان اپنے بیٹے کی لاء گریجویشن کی تقریب میں شرکت کے لیے برطانیہ پہنچا لیکن مبینہ طور پر جنسی مقاصد کے لیے ایک بچے کے ساتھ مشغول ہوگیا اور جاسوسوں کے ہاتھوں پکڑا گیا۔ کنگسٹن کراؤن کورٹ میں استغاثہ نے جج کو بتایا کہ محمد خرم خان پر دو الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں ایک بچے کے ساتھ جنسی رابطے کی کوشش یا بچوں کے جنسی جرم کے ارتکاب کی سہولت فراہم کرنا شامل ہیں۔ محمد خرم خان، جو وزیٹر ویزے پر برطانیہ میں ہیں اور خان خیل قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، وینڈز ورتھ جیل میں اپنے سیل سے کنگسٹن کراؤن کورٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعے جج کے سامنے پیش ہوئے۔ انہیں اس سال کے شروع میں گرفتار کیا گیا تھا اور ابھی تک ضمانت نہیں دی گئی۔ سماعت میں ان کی نمائندگی ان کی وکیل چارلین سمنال نے کی۔ خان نے بچوں سے جنسی جرائم کے الزامات کی تردید کی ہے اور ان کے قریبی لوگوں نے کہا ہے کہ انہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کے ایک قریبی دوست نے جیو نیوز کو بتایا کہ خان ایک بے قصور آدمی ہے اور برطانیہ کے پراسیکیوشن کے الزامات سے انکار کیا ہے۔

خرم نے سوچا کہ وہ 17 سال سے کم عمر کی لڑکی سے بات کر رہا ہے اور “لڑکی” نے ایسا ہی دکھاوا کیا لیکن حقیقت میں سوشل میڈیا ایپلی کیشن کے دوسرے سرے پر ایک پولیس جاسوس موجود تھا۔یہ سمجھایہ جاتاہے کہ رابطہ سوشل میڈیا پر شروع ہوا.
2003 کے جنسی جرائم کے قانون کے مطابق پورے برطانیہ میں رضامندی کی عمر 16 سال ہے – یہ کم سے کم عمر ہے جب کسی بھی جنس، صنف، یا جنسی رجحان کے نوجوان قانونی طور پر جنسی سرگرمی میں حصہ لے سکتے ہیں.

خرم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی شہزادہ گستاسپ خان کے چچا زاد بھائی اور بہنوئی ہیں جنہوں نے 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف کامیابی حاصل کی تھی۔

اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ خرم کے کسی رشتہ دار یا خاندان کے کسی رکن کا برطانیہ میں ان کے مبینہ طرز عمل یا ان کے اقدامات سے کوئی تعلق ہے۔
ان کے والد محمد حنیف خان دو مختلف مواقع پر قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں اور ڈپٹی اسپیکر اور وفاقی وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے تھا۔
خرم خان نے ابتدائی تعلیم لارنس کالج گھوڑا گلی اور برن ہال اسکول اینڈ کالج ایبٹ آباد سے حاصل کی۔ وہ لاء گریجویٹ ہیں لیکن پریکٹس کرنے والے وکیل نہیں رہے ہیں۔ وہ تحصیل ناظم مانسہرہ اور خاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔