اسلا م آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ میں لانگ مارچ کے باعث راستوں کی بندش اور چھاپوں کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی ، عدالت نے اٹارنی جنرل کو حکومت سے ہدایت لینے کی اجازت دیدی اور سیکریٹر داخلہ، چیف کمشنر ، کمشنر اور آئی جی اسلام آباد کو طلب کر لیاہے ۔عدالت نے وفاقی اور صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی طلب کر لیا گیاہے ۔
سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے درخواست دائر کر رکھی ہے ، جسٹس اعجاز الحسن کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کر رہاہے جس میں مختصر وقفہ کیا گیاہے ۔دوران سماعت جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ، سکول اور ٹرانسپورٹ بند ہے ،معاشی لحاظ سے ملک ناز ک دوراور دیوالیہ ہونے کے درپے ہے ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت معیشت سے متعلق آبزرویشن دینے سے گریز کرے،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ملک میں جو ہو رہاہے وہ سب کو نظر آرہاہے ،کیا ہر احتجاج پر پورا ملک بند کرا دیا جائے گا ،پریس رپورٹس کے مطابق تمام امتحانات ملتوی ، سڑکیں بند، کاروبار بند کر دیئے گئے ہیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے تفصیلات کا علم نہیں، معلومات لینے کا وقت دیں ،جسٹس مظہر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ اٹارنی جنرل صاحب کیا آپ کو نظر نہیں آ رہا ، ملک میں کیا حالات ہیں؟ سپریم کورٹ کا آدھا عملہ راستے بند ہونے کی وجہ سے پہنچ نہیں سکا ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اسلام آباد میں تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی ناذ ، سکول اور ٹرانسپورٹ بند ہے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ سکولوں کی بندش سے متعلق شائد آپ میڈیا رپورٹس کا حوالہ دے رہے ہیں، میڈیا کی ہر رپورٹ درست نہیںہوتی ، جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ سکولوں کی بندش اور امتحانات ملتوی ہونے کے سرکاری نوٹیفکیشن جاری ہوئے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ بنیادی طور پر حکومت کاروبار زندگی ہی بند کرنا چاہ رہی ہے ،اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خونی مارچ کی دھمکی دی گئی ،بنیادی طور پر راستوں کی بند کے خلاف ہوں ،عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلئے اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں۔









