بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مسلم لیگ (ن) نے الیکشن کا فیصلہ کر لیا تھا مگر اب نہیں کرائینگے ، جو کرنا ہے کر لیں ، طلال چودھری کا عمران خان کو پیغام

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چودھری نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) نے الیکشن کرانے کا ٖفیصلہ کرلیا تھا مگر اب الیکشن نہیں کرائیں گے ، اب عمران خان کے پاس  500 دن ہیں انہیں جو کرنا ہے کر لیں ۔

لاہور میں عظمیٰ بخاری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چودھری کا کہنا تھا کہ دو دن کے نوٹس پر کون سا لانگ مارچ ہوتا ہے ، دو دن میں تو انسان کوئٹہ یا کراچی سے اسلام آباد کیلئے ٹکٹ نہیں بک کروا سکتا ، مسلم لیگ (ن) انتخابات کا فیصلہ کر چکی تھی اور خان صاحب نے  اسے کیش کرنےکیلئے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ،  ان کی شعبدہ بازی کی وجہ سے الیکشن کرناے کا موقع ضائع کر دیا ۔

طلال چودھری نے کہا کہ  کسی کی بڑھکوں کے نتیجے میں الیکشن نہیں کرائیں گے ،  اب ان کے پاس 500 روز  ہیں ، خان صاحب امریکہ سے آزادی  پاکستانی سپاہیوں کے سینوں پر گولی مار کر ملے گی ؟، انتشار پھیلا کر اور اسلحہ اکٹھا کر کے ملے گی ؟، آپ فرما رہے ہیں کہ بذریعہ کشمیر ہائی وے ڈی چوک پہنچیں ، خاں صاحب آپ بذریعہ مری روڈ اڈیالہ پہنچیں گے اور ہم آپ کے اقتدار کا نشہ اتاریں گے ۔

طلال چودھری نے مزید کہا کہ ہماری پولیس مکھیاں مار رہی ہے ، پورے پنجاب میں مجموعی طور پر 700 افراد  نکلے ہیں جن میں سے  400 افراد لاہور  میں   سے اور باقی تین سو  باقی پنجاب سے نکلے  ہیں ۔  انقلاب لانے والا کوئی سٹور میں ہے کوئی کچن میں ہے ،امریکی ٹینکوں کے سامنے لیٹنے والے پنجاب پولیس سے ہار گئے ہیں  ،یہ آزادی مارچ نہیں اقتدار کی بحالی کا مارچ ہے ، یہ اس طرح نہیں ملے گا ، جیسے پہلے ملا تھا  ۔ آپ کے جہاد میں آپ کی اہلیہ شامل نہیں ، آپ کی اہلیہ سمیت  پور اپاکستان نیوٹرل ہے ۔

مسلم لیگی رہنما نے مزید کہا کہ  ہم پہلے بھی پر امن احتجاج کی اجازت دینا چاہتے تھے ہم اب بھی اجازت دینا چاہتے ہیں مگر پنجاب کے کسی ڈپٹی کمشنر کو  لانگ مارچ کی درخواست نہیں دی گئی ، یہ ممکن نہیں کہ کوئی لانگ مارچ کرے تو ہم اسے سکیورٹی نہ دیں ،  اگر کہیں کچھ ہو گیا تو کل عدالت کو ہم نے جواب دینا ہے ۔

طلال چودھری کا کہنا تھا کہ خان صاحب کا ٹریک ریکارڈ بھی اچھا نہیں گزشتہ دھرنے کیلئے ان کی گارنٹی ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے دی تھی  بعد میں وہ دونوں شرمندہ ہوئے ۔  خان صاحب نے کہا تھا لانگ مارچ کیلئے بیس لاکھ افراد لاؤں گا مگر دو ہزار آدمی ہی دکھا دیں ، اس بار تو خیبرپختونخوا بھی نیوٹرل ہو چکا ہے ،  آپ کہتے تھے کہ گرفتار کیا گیا تو پتہ نہیں کیا ہو جائے گا ، چلیں دیکھتے ہیں کہ کیا ہو جائے گا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ  عمران خان کسی اور کیس میں گرفتار ہوں یا نہ ہوں مگر شہید کانسٹیبل کے کیس میں اگر ان کی بالواسطہ یا بلاواسطہ ہدایت کا ثبوت ملا تو   وہ ضرور گرفتارہوں گے ۔ ہم پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریاں نہیں کر رہے بلکہ ہمیں فرمائشی فون آرہے ہیں کہ گرفتار کرلیں ، ہم اگر فرمائشی فونوں پر گرفتاریاں کرنے لگے تو جیلیں بھر جائیں گی ۔

طلال چودھری نے مزید کہا کہ  خان صاحب کی ایک جیب میں یہودیوں  اور  دوسری جیب میں ہندوؤں کے پیسے ہیں ،اگر یہ ریاست مدینہ ہوتی تو خان صاحب وزیر اعظم کی بجائے سنگسار ہوتے ۔