وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے معاشی اقدامات کے نتیجے میں معاشی استحکام کی جانب گامزن ہوچکے ہیں، حکومتی اقدامات کے نتیجے میں کرنٹ اکاونٹ خسارے میں کمی آئی ہے، ہماری کرنسی کی قدرمیں اضافہ ہوا اور مہنگائی 38 فیصد سے ساڑھے 12 فیصد پرآ گئی ہے۔
پیر کو پاکستانی معیشت سے متعلق عالمی ریٹنگز ایجنسی ’فچ‘ کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’عالمی ریٹنگ ایجنسی ’فچ‘ کے ساتھ پاکستان کی معاشی صورت حال پر تفصیل سے بات ہوئی تھی، عالمی ریٹنگ ایجنسی کی رپورٹ انتہائی حوصلہ افزاء اور ہمارے لیے خوش آئند ہے کہ ہم معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو چکے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ریٹنگ ایجنسی ’فچ‘ کی رپورٹ ہمارے اس سفر کا عکاس ہے جس کے لیے ہم گزشتہ 3، 4 ماہ سے تندہی اور جانفشانی سے کام کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس سارے عرصے کے دوران ہمارا معیشت سے متعلق 3 بڑی عالمی ریٹنگز ایجنسیز کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں، ان کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں، جس کے نتیجے میں آج ’فچ ‘ کی مثبت رپورٹ آئی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمارے تمام معاشی اعشاریے مثبت سامنے آ رہے ہیں، فچ جیسی عالمی ریٹنگز ایجنسیوں کی پاکستان سے متعلق مثبت روپوٹس سامنے آنا اس لیے ضروری ہے کہ ہم آئی ایم ایف ‘ کے ساتھ آخری پروگرام کرنے جا رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ فچ کی ریٹنگ میں بہتری نہایت اہمیت کی حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرنسی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آئی، گزشتہ مالی سال اچھے نوٹ پر ختم ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی بھی جاری کر دی ہے، جس میں شرح سود ایک فیصد کم ہوکر19 ہو گئی ہے، یہ بھی ملکی معیشت کے لیے ایک انتہائی خوش آئند بات سامنے آئی ان شا اللہ آنے والے دنوں میں اس میں بتدریج کمی آتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ فچ رپورٹ اور مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں کمی پاکستانی معیشت میں دو بڑی مثبت تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔
حکومتی اقدامات کے نتیجے میں معاشی استحکام کی جانب گامزن ہوچکے ہیں،وزیرخزانہ








