اسلام آباد(طارق محمودسمیر) مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظرمیں ٹی ایل پی کے رہنماکے چیف جسٹس آف پاکستان کے حوالے سے دھمکی آمیزبیان پرحکومتی وزراء نے شدیدردعمل ظاہرکیاجب کہ ملزم کو حراست میں بھی لے لیاگیا،افسوسناک امریہ ہے کہ سپریم کورٹ کے وضاحتی بیان کے باوجود اس معاملے پر تنازع کھڑا کیاگیا، سپریم کورٹ نیبیان میں کہا ہے کہ جو لوگ عدالتی فیصلوں کو کچھ کا کچھ بناکر پیش کرتے ہیں، اپنی مرضی کے مفہوم کا جامہ پہناکر پروپیگنڈا کرتے ہیں وہ فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں۔ فاضل عدالت نے توضیحی بیان میں کہا کہ ملک کا آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے مگر اس مگر اس کی بھی حدود ہیں۔ یہ آزادی دین کے حوالے کسی کو گمراہ کرنے یا ملک کی سالمیت کے لیے خطرات پیدا کرنے کی خاطر بروئے کار نہیں لائی جاسکتی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ فساد فی الارض کی اسلام نے سختی سے ممانعت کی ہے۔ ملک کا آئین اور قوانین بھی کسی کو ہنگامہ آرائی اور دوسروں کے لیے مسائل پیدا کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ سپریم کورٹ نے مبارک ثانی کیس میں پنجاب حکومت کی طرف سے دائر کی جانے والی نظرثانی درخواست منظور کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ حضرت محمد کی ختم نبوت پر مکمل اورغیر مشروط ایمان کے بغیر کوئی بھی انسان حقیقی اور مکمل مسلمان نہیں ہوسکتا فیصلے میں قرآن و حدیث کے حوالوں کے علاوہ جدید علما کے مشورے بھی شامل ہیں۔ 21 صفحات کا اردو میں لکھا ہوا فیصلہ پڑھ کر سناتے ہوئے جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا تھا کہ تفصیلی فیصلہ جاری کیے جانے پر ہر طرح کا ابہام دور ہوجائے گاعدالت کا کہنا ہے کہ شریعت کورٹ کے مجیب الرحمٰن کے فیصلے کو بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ احمدیوں کے حوالے سے سپریم کورٹ کا ظہیر الدین فیصلہ بھی اہم ہے۔ہوناتو یہ چاہئے تھاکہ سپریم کورٹ کی وضاحت کے بعداس معاملے کو ختم کردیاجاتا لیکن بظاہرسیاسی مفاد کے لئے اس معاملہ کو ہوادی جارہی ہے،یقیناًقانونی کارروائی ہونی چاہئے تاہم یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس حوالے سے ہرطرح سے احتیاط برتی جانی چاہئے،وزراء کو بھی محتاط اندازاختیارکرناچاہئے،یہ امرقابل ذکرہے کہ چیف جسٹس کے خلاف مہم اور قتل جیسی دھمکی پر نہ تو کسی ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لیا اور نہ ہی وکلاء تنظیمیں میدان میں آئیں حالانکہ جب ججز پر خفیہ ادارے کے دباوکی الزام پر چھ ججز خط لکھ سکتے ہیں تواس معاملے پر سستی کیوں دکھائی گئی،ادھر مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور ٹیکسوں کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرناجاری ہے ،حکومت نے دھرناختم کرانے کے لئے اس کے منتظمین کے ساتھ بات چیت کا راستہ اختیارکیا ہے جو خوش آئندبات ہے ، تشدیاطاقت کے استعمال سے کوئی معاملہ حل ہونے کے بجائے مزیدالجھ جاتاہے، جماعت اسلامی کے مطالبات پیش کردہ تمام خالصتاًعوامی اور جائزہیں،خاص طور پر بجلی کے بھاری بلوں اور ٹیکسوں نے غریب اور متوسط طبقے کاجینادوبھرکردیاہے اور بھاری بل اب لڑائی جھگڑوں کا باعث بن رہے ہیںجب کہ خودکشیوںکے واقعات بھی پیش آچکے ہیں ،یہ کہناغلط نہ ہوگا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے کو اس وقت عوام کی مکمل تائید حاصل ہے، اس لئے دھرنے کے حوالے سے حکومت کے کسی بھی غیردانشمندانہ فیصلے یااقدام سے ملک بھرمیں امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوسکتاہیلہذا صرف مطالبات پر بات چیت ہی ضرورت نہیں بلکہ جائزمطالبات تسلیم کئے جانے چاہئیں،بانی پی ٹی آئی عمران خان کے اڈیالہ جیل سے آرمی چیف کو غیرسیاسی رہنے کا پیغام دیاگیاآج اسٹیبلشمنٹ کو نیوٹرل رہنے کامشورہ دینے والے بانی پی ٹی آئی ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کو مداخلت کی دعوت بھی دیتے رہے ہیں خاص طور پر جب ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی اور ساتھ نہ دیئے جانے پرانہوں نے اس وقت کی عسکری قیادت کے حوالے سے نامناسب بیان بازی بھی کی جب کہ موجودہ عسکری قیاد ت کے حوالے سے بھی ان کے بیانات ریکارڈ پر ہیں،بظاہر عمران خان کے بظاہر جارحانہ لہجے کو بدل کر ایک دفاعی پوزیشن اختیار کر لی ہے جسے بعض مبصرین ایک نئی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں ان کی یہ حکمت عملی کامیاب ثابت ہوتی ہے یانہیں یہ آنے والاوقت ہی بتائے گا۔









