وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ہم ریٹیلرز پر ٹیکس لگائیں گے، کیونکہ ہر شعبے کو ٹیکس نیٹ میں اپنا حصہ ڈالنا پڑے گا، اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو پھر ہم ایسے ہی واپس وہیں تنخواہ دار طبقے کی طرف ہی جاتے رہیں۔
کراچی چیمبر آف کامرس کے ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی قریب مین ہم ہر چیز ٹرائی کر چکے ہیں، پاکستان کو بیلنس آف پیمنٹ کے ایشو سےنکالنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی قریب میں ہم ہرچیزٹرائی کرچکےہیں، آئی ٹی کےشعبےمین پلے بار 3.2 بلین ٖڈٓالرز کی ایکسپورٹ ہوئیں۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ چھوٹےپیمانےکی صنعتوں کو بھی قرضہ دینا ہے، چھوٹےپیمانےکی صنعتوں کو بھی قرضہ دینا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملکی برآمدات کو ماہانہ 4 ارب ڈالر تک بڑھاناہوگا، پرامید ہوں اسٹیٹ بینک شرح سود بتدریج کم ہوگا، اس وقت شرح سود میں مزید کمی کی گنجائش ہے، بینکوں سےکاشتکاروں،چھوٹے کاروبار کےلیےقرضے کا کہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت شرح سود میں مزید کمی کی گنجائش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ہم نے کہا کہ ہم ریٹیلرز پر ٹیکس لگائیں گے، کیونکہ ہر شعبے کو ٹیکس نیٹ میں اپنا حصہ ڈالنا پڑے گا، اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو پھر ہم ایسے ہی واپس وہیں تنخواہ دار طبقے کی طرف ہی جاتے رہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ریٹیلرز، بلڈرز اور ریئل اسٹیٹ ڈوپلرز ہیں، زراعت وفاقی نہیں، صوبائی شعبہ ہے، وزیر اعلیٰ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اتفاق کیا کہ زرعی شعبے سے متعلق قانون سازی کی طرف جائیں گے، تا کہ اس شعبے کو بھی ٹکس نیٹ میں لایا جا سکے۔








