راولپنڈی میں حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور مکمل ہوگیا۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ہمراہ آئی ٹیکنیکل ٹیم کے اراکین نے جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کو ابتدائی بریفنگ دی۔ مذاکرات کے بعد نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ پہلے راؤنڈ میں مطالبات سامنے رکھے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں حکومت کمیٹی ارکان کے ساتھ ٹیکنیکل کمیٹی کے افراد بھی شریک تھے، جنہوں نے کسی مطالبے یا نقطے کو رد نہیں کیا۔ لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ حکومتی ٹیم پر واضح کیا کہ مہنگائی کو کم کیا جائے، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے اور انتظامی اخراجات کم کیے جائیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنا مطالبہ دہرایا کہ آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے کیونکہ آئی پی پیز جھنجھٹ ہے جس سے صنعت تباہ ہو چکی ہے اور تجارت ختم ہو گئی ہے۔ ادھر وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام، ایم این اے طارق فضل چوہدری حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ارکان نے جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ لیاقت بلوچ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جماعت اسلامی قیادت کو کہا آپ کی اور ہماری ڈیمانڈ ایک ہی ہے کہ ملک میں خوشحالی ہو، ٹیکنیکل ٹیم میں ایف بی آر، پاور ڈویژن اور دیگر اداروں سے بھی لوگوں کو شامل کریں گے، حکومت چاہتی ہے جماعت اسلامی اپنا دھرنا ختم کرے ۔جماعت اسلامی قیادت سے مزاکرات کا دوسرا دور ختم ہونے کے بعد کمشنر راولپنڈی آفس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کا مزید کہنا تھا کہ جماعت اسلامی قیادت کو بتایا ہمارے پاس 100 روپے ہیں تو اسی میں رہ کر بات ہو گی، ہماری ٹیکنیکل کمیٹی اور جماعت اسلامی کے درمیان آج بات چیت ہوئی، ہم امید رکھتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے مذاکرات مثبت ہوں اور دھرنا بھی ختم ہو، ہم اپنے وسائل میں رہ کر جو کر سکے وہ کریں گے، کمیٹی کی برکت ہی سے ہماری جماعت اسلامی سے ملاقات ہوتی ہے، انجینئر امیر مقامعوام کے ریلیف کے لیئے ہم پہلے بھی کام کر رہے ہیں- انجینئر امیر مقام اور اب بھی کام جاری ہے،چاہتے ہیں جماعت اسلامی کے تحفظات کو جلد سے جلد دور کیا جائے اور دھرنا ختم ہو۔وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف ملک کی معاشی خوشحالی کے لیے موثر انداز میں کام کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ ہم جلد ہی معاشی چیلنجوں پر قابو پا لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو معاشی صورتحال کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ وزیر اعظم کی قیادت میں موجودہ حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کے لیے سخت محنت کر رہی ہے۔ ایم این اے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ واضح رہے کہ 28 جولائی کو حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے پہلے مرحلے کے بعد حکومت نے جماعت اسلامی کے تمام کارکنوں کو رہا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے معاملات کو حتمی طور پر طے کرنے کے لیے ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دے دی تھی۔ جماعت اسلامی کا بجلی کی زائد قیمتوں، آئی پی پیز اور مہنگائی و ٹیکسز کے خلاف دھرنا جاری ہے۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور مکمل، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق








