بنگلہ دیش کی حکومت کے سخت گیر اور انتقامی رویے کے باعث طلبہ تحریک نے ملک گیر سِول نافرمانی کی کال دے دی ہے۔ طلبہ تحریک سے وابستہ طلبہ کا کہنا ہے کہ حکومت وعدہ خلافی کر رہی ہے۔ کئی شہروں میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں جن میں مزید 76 افراد مارے گئے ہیں، ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد کا تعلق سراج گنج سے ہے.
جن لوگوں کو طلبہ تحریک کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اُنہیں رہا کرنے پر اتفاق ہوا تھا مگر اب حکومت اُن کے خلاف مقدمات چلانے کی تیاری کر رہی ہے۔
طلبہ تحریک کے قائدین کو رہا کرنے سے حکومت کے انکار نے طلبہ میں ایک بار پھر اشتعال کی لہر دوڑا دی ہے۔ انہوں نے اپنی تحریک دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کو حتمی شکل دینا شروع کردیا ہے۔
عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ طلبہ کا ساتھ دیں اور حکومت کے خلاف تحریک کا حصہ بنیں۔ اس سلسلے میں سول نافرمانی کا آپشن اختیار کیا جارہا ہے۔
سیاسی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت کو اس مرحلے پر افہام و تفہیم سے کام لینا ہے۔ اگر طلبہ تحریک کے قائدین کے خلاف مقدمات چلاکر اُنہیں سزائیں سنائی گئیں تو ملک ایک بار پھر طویل عدم استحکام کے گڑھے میں گرسکتا ہے۔ بنگلہ دیش کی اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت سے بہت نالاں ہیں۔ طلبہ تحریک کی شکل میں اُن کے لیے حکومت کے خلاف ایک اچھا پلیٹ فارم میسر ہوسکتا ہے۔
ملک کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر سابق آرمی چیفس اور آرمی افسران نے ملک کی مسلح افواج سے عام طلبہ کے ہجوم کا سامنا نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
سابق فوجی افسران نے اتوار کی سہ پہر ڈھاکہ میں ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا جس کا مقصد ملک کی موجودہ صورتحال میں بحران کو حل کرنے کے حوالے سے تجاویز دینا تھا۔
ایک تحریری بیان میں سابق آرمی چیف اقبال کریم بھویاں نے کہا کہ ’فوری طور پر مسلح افواج کو واپس آرمی کیمپ میں لانا اور انھیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا ضروری ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس بحران کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے پہل کریں۔ محب وطن مسلح افواج کو طلبہ کے ہجوم کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔‘
بنگلہ دیش کے شہر سراج گنج کے تھانے پر مظاہرین کے حملے میں کم از کم 13 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ۔
راج شاہی رینج کے ایڈیشنل ڈی آئی ڈی وجے باسک نے ابتدا میں بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ سراج گنج کے عنایت پور تھانے پر حملے میں 11 پولیس اہلکار مارے گئے۔
تاہم بعد میں پولیس ہیڈ کوارٹر کے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ وہاں 13 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
مقامی صحافیوں کے مطابق دوپہر کے قریب سراج گنج کے عنایت پور پولیس سٹیشن پر ہزاروں مظاہرین نے حملہ کیا۔
بی بی سی بنگلہ کے مطابق اتوار کی دوپہر کو یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ کومیلا میں ایک اور پولیس اہلکار کو مظاہرین نے تشدد کر کے جان سے مار ڈالا۔
بنگلہ دیش میں سول نافرمانی اور ہنگامے، سولین ہلاکتوں کی تعداد 76 ہوگئی، کم از کم 13 پولیس اہلکار بھی مارے گئے








