بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نجکاری عمل آگے بڑھانا ضروری، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر خزانہ و محصولات مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ اسی سے ہمارے بیشتر خسارے کم یا ختم ہو جائینگے.

حکومت پاکستان سپیڈ کے ساتھ کام کرکے قومی معیشت کو درپیش چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرے گی، جامع اور پائیدار اقتصادی نمو اور برآمدات میں اضافہ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کے اہم اہداف ہوں گے.

نئے مالی سال میں زری اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا اور خسارے کو 5 فیصد کی سطح پر لانا ہمارا ہدف ہے، جی ڈی پی کی نمو 5 سے لے کر 6 فیصد تک مقرر کرنے کا امکان ہے، افراط زر پر قابو پانے کیلئے اقدامات ہوں گے.

نئے مالی سال میں حکومت ہدف پر مبنی سبسڈی دے گی، مجموعی طور پر ساڑھے 8 کروڑ پاکستانیوں کو 2 ہزار روپے ماہانہ مشاہرہ دیا جائے گا، سابق حکومت نے مشکل فیصلے ہمارے لئے چھوڑے لیکن ہماری نیت صاف ہے، حالات مشکل ہیں لیکن ہم معیشت کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔

منگل کو یہاں وزارت خزانہ کے زیر اہتمام نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کے حوالہ سے بزنس، آئی ٹی، زراعت اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور شراکت داروں سے مشاورت کیلئے منعقدہ پری بجٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ وزیراعظم کی یہ خواہش تھی کہ بجٹ مرتب کرتے وقت تمام شراکت داروں سے مشاورت کی جائے اور ان کی آراء حاصل کی جائے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اس وقت معیشت کے حوالہ سے مشکلات موجود ہیں اور مل جل کر آگے بڑھنا ہے، تمام شعبوں کو ساتھ لے کر آگے جائیں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ گذشتہ چار سال میں پاکستان کے 2 کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے چلے گئے، 60 لاکھ لوگ بے روزگار ہو گئے.

1952ء کے بعد پہلی مرتبہ ہماری منفی گروتھ ہوئی جس سے بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا، پاکستان کے قرضوں میں اضافہ کی شرح زیادہ رہی.

اس سال 5 ہزار 600 ارب روپے خسارے کا اندیشہ ہے، ہمارے گذشتہ پانچ سالہ دور میں اوسط خسارہ 1650 ارب روپے تھا جبکہ جاری مالی سال میں 5600 ارب روپے کا اوسط خسارہ متوقع ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 2017-18ء میں جی ڈی پی کے لحاظ سے خسارہ کی شرح 6.5 فیصد تھی.

پی ٹی آئی کے پہلے سال میں مالی خسارہ 9.1 فیصد ہو گیا، اس سے اگلے سال یہ 7.1 اور پھر 8.1 فیصد آیا، یہ ستم ظریقی ہے کہ سابق حکومت نے دسمبر میں آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا

اس میں پرائمری خسارہ 25 ارب روپے تک کا ہدف تھا لیکن اس سال متوقع پرائمری خسارہ 1332 ارب روپے ہو گا.

ان خساروں کی وجہ سے ہمارے قرضوں میں نمایاں اضافہ ہوا، مسلم لیگ (ن) کے دور میں قرضہ کی اوسط 2132 ارب روپے رہی جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں یہ اوسط 5177 ارب روپے ریکارڈ کی گئی ہے، ہم نے اوسط 2132 ارب روپے کے قرضوں میں بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا.

بجلی اور گیس کے پلانٹس لگائے گئے، گوادر کو ترقی دی گئی جبکہ موٹرویز بھی بنائی گئیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ لیاقت علی خان سے لے کر ناصر الملک تک کی حکومتوں نے 70 برسوں میں 25 ہزار ارب روپے کے قرضے حاصل کئے جبکہ پی ٹی آئی کے دور میں 20 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا گیا.

ملکی تاریخ میں مجموعی قرضوں میں سب سے زیادہ 80 فیصد تناسب کے ساتھ عمران خان کی حکومت نے قرضہ لیا ہے، نئے مالی سال میں ہم نے 3900 ارب روپے کا قرضہ واپس کرنا ہے۔