اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی وزیرداخلہ کی جانب سے سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے حوالے سے بیانات کے بعد کپتان کے ایک گونگے بہرے کھلاڑی نے بھی رانا ثناء اللہ کو اشاروں میں وارننگ دیدی۔
بنی گالا کے سامنے سیکورٹی کیمپ میں موجود کپتان کا سپاہی جو نہ بول سکتا ہے نہ سن سکتا ہے لیکن اشاروں سے پتہ چلتا ہے کہ کپتان کی محبت میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے, 😢❤️#امپورٹڈ_حکومت_نامنظور pic.twitter.com/rlzHOQrzGB
— Neha (PTI) (@its_neha1) June 9, 2022
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں بنی گالا کے سامنے سیکورٹی کیمپ میں موجود عمران خان کے گونگے بہرے مداح نے اشاروں میں رانا ثناء اللہ کو عمران خان کی گرفتاری سے باز رہنے کا پیغام دیا۔
اس سے قبل تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عطاء اللہ خان نے سیاسی و عسکری قیادت کو سنگین دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر عمران خان کے بال کو بھی کچھ ہوا تو نہ ملک چلانے والے رہیں گے نہ ان کے بچے رہیں گے، سب سے پہلے میں خودکش حملہ کروں گا اور بھی ہزاروں خودکش تیار ہیں۔
PTI MNA Attaullah Advocate: those who run this country are warned, I will launch a suicide attack on you and your children will not be safe if anything happens even to a hair of Imran Khan. pic.twitter.com/3uHusb8RCo
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) June 6, 2022
پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عطاء اللہ خان نے خودکش حملے کی دھمکی دینے کے بعد اگلے روزیوٹرن لیتے ہوئے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے عمران خان کی گرفتاری پر ممکنہ ردعمل پر بات کی تھی، ہمارے پاس کوئی بارود نہیں ہے کہ ہم خودکش حملہ کرینگے۔
https://twitter.com/RabNBaloch/status/1534011752035254275?
واضح رہے کہ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اتوار کے روز سابق وزیراعظم عمران خان کی بنی گالہ واپسی کے حوالے سے کہا تھا کہ عمران نیازی کو بنی گالا میں واپسی پر خوش آمدید کہتے ہیں، قانون کے مطابق ان کو سیکورٹی فراہم کی جارہی ہے، عدالتی ضمانت ختم ہونے پر قانون کے مطابق فراہم کی گئی یہی سیکورٹی عمران نیازی کو بڑی خوش اسلوبی سے گرفتار کرلے گی۔
انہوں نے کہ اتھا کہ عمران نیازی ملک میں ہنگامہ آرائی،فتنہ وفساد، افراتفری پھیلانے اور وفاق پر مسلح حملوں کے جرائم کے تحت درج دو درجن سے زائد مقدمات میں بطور ملزم نامزد ہے، عدالتی ضمانت ختم ہونے پر گرفتار کرلیا جائیگا۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ملک میں فساد فی العرض برپا کرنے والا وہ شخص جو اخلاقی اورجمہوری قدروں سے یکسرعاری ہو اوراپنے مخالفین کو کبھی غداراور یزیدکہہ کر پکارتا ہوا،کس طرح ایک جمہوری معاشرے میں ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہوسکتا ہے؟ ،یہ پوری قوم کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔








