بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آلو بخارا میں چھپے صحت کے دس انوکھے راز

موسم گرما میں متعدد پھل بازاروں میں ملتے ہیں، جن میں سے بیشتر ہی لوگوں کو پسند بھی ہوتے ہیں اور ایسا ہی ایک پھل آلو بخارہ ہے۔جو نہ صرف ذائقے دار اور صحت بخش ہے بلکہ اسے خشک کرکے بھی چٹنی یا مختلف شکلوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ پھل بادام اور آڑو کی نسل کے پھلوں میں شامل ہے جس کی متعدد اقسام اور حجم بازار میں ملتے ہیں، جبکہ ذائقہ میٹھا یا کھٹا ہوتا ہے جبکہ اس کا رس بھی مزیدار ہوتا ہے۔یہ پھل پوٹاشیم، سیلینیئم اور دیگر منرلز کے ساتھ وٹامن سی اور بیٹاکیروٹین سے بھرپور ہوتا ہے۔یہاں آپ اس پھل کے فوائد جان سکیں گے۔
ذیابیطس کو کنٹرول کرنے میں مددگار
آلوبخارے میں ایسے بائیو ایکٹیو کمپاؤنڈ موجود ہوتے ہیں جو ذیابیطس کے مرض کا شکار ہونے سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، یہ پھل جسم میں بلڈ شوگر لیول ریگولیٹ کرنے والے ہارمون کی سطح بھی بڑھاتا ہے جبکہ اس میں موجود فائبر جسم کی کاربوہائیڈریٹ جذب کرنے کی رفتار کو سست کرتا ہے۔ آلوبخارے کو کھانے کی عادت انسولین کی حساسیت بڑھاتی ہے جس سے ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے اس مرض کی پیچیدگیوں سے بچنا آسان ہوجاتا ہے۔
دماغی صحت کے لیے بھی مفید
مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق آلو بخارے میں موجود پولی فینولز دماغی افعال کو بہتر کرتا ہے جبکہ دماغی کولیسٹرول لیول کم کرتا ہے، جس سے عمر بڑھنے سے لاحق ہونے والے امراض کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔
نظام ہاضمہ کو بہتر کرے
آلو بخارہ غذائی فائبر کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے جو کہ نظام ہاضمہ کو ریگولیٹ کرنے میں مدد دیتا ہے۔ غذائی فائبر کی 2 اقسام جلاب کی طرح کام کرکے قبض کو دور کرتی ہے جبکہ کچرے کے موثر اخراج میں مدد دیتا ہے۔ قبض کے شکار افراد کو خشک آلو بخارے بہترین علاج ثابت ہوسکتا ہے۔
بینائی کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے
وٹامن سی اور بیٹا کیروٹین سے بھرپور پھل آنکھوں کی صحت بہتر کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، کیونکہ یہ اجزاءآنکھوں کی صحت کو مستحکم رکھنے کے لیے فائدہ مند جبکہ عمر بڑھنے سے پٹھوں کی کمزوری اور موتیا وغیرہ سے بچا سکتے ہیں۔ آلو بخارہ کیروٹین، لیوٹین اور دیگر سے بھرپور پھل ہے جو سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں کے مضر اثرات سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
دل کا دوست
خشک آلو بخاروں کو کھانا شریانوں میں خون کے بہاؤ میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، اس کے نتیجے میں دل کو مختلف امراض جیسے کارڈیک اریسٹ، فالج اور دیگر سے تحفظ مل سکتا ہے۔