اسلام آباد:وزیراطلاعات عطاء اللہ تارڑنے کہاہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ غیررسمی ملاقاتیں ضرور ہوئی ہیں تاہم باضابطہ طور پرمذاکرات شروع ہوئے نہ کوئی رابطہ بحال ہوا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے ساتھ کمیٹیوں کے مذاکرات نہیں ہوئے،یہ پہلے نومئی اور 26 نومبرکے واقعات پر شرمندگی کااظہارتوکریں۔انہوں نے کہاکہ ان کے بشریٰ گروپ سے بانی کرنا یا علیمہ گروپ سے ،مذاکرات کے حوالےسے پی ٹی آئی کا ااعتبارکون کرے گااور ان کی گارنٹی کون دے گا؟ پی ٹی آئی 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر آخری وقت پر اپنی بات سے مکرگئی تھی۔انہوں نے کہاکہ سپیکر کےگھروزیراعظم اور سپیکر کے درمیان کوئی ملاقات نہیں ہوئی ۔پی ٹی آئی کی بائیکاٹ کال کے حوالے سے وزیراطلاعات نے کہاکہ یہ ترسیلات زربند کرنے کی نہیں،مجھے جیل سے نکالو کی کال ہے، ریاست کو بدنام کرنے کےلیے جھوٹابیانیہ بنایاجارہا ہے ، یہ لوگ سیاسی ناکامی سے فرار اختیارکرناچاہتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہپی ٹی آئی کو بتایا گیا تھا کہ ڈی چوک نہیں آسکتے، پی ٹی آئی نے جو کچھ کیا اس کے تمام ثبوت موجود ہیں ،صوبے کے وسائل استعمال کرکے وفاق پر چڑھائی کی جاتی ہے ۔
پی ٹی آئی کیساتھ مذاکرات:حکومتی موقف سامنے آگیا








