اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت کی جانب سے سال آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صحت کے لیے مجموعی طور پر 24 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
فارماسیوٹیکل سیکٹر کے لیے 30 سے زیادہ ایکٹیو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس (کسی دوا کے لیے درکار اجزا) کو کسٹم ڈیوٹی سے مکمل استثنیٰ دیا گیا ہے جبکہ خیراتی ہسپتالوں کو درآمد، عطیات کی سپلائی پر سیلز ٹیکس کی مکمل چھوٹ دی گئی ہے۔
فرسٹ ایڈ بینڈیجز بنانے والی صنعت کے خام مال کو بھی کسٹم ڈیوٹی سے مزید استثنیٰ دیا گیا ہے تاکہ اس کی پیداواری لاگت مزید کم ہوسکے۔
انڈس اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر عبدالباری خان اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر قیصر سجاد نے خیراتی ہسپتالوں کو ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ اور فارما کمپنیوں کو سیلز ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کو سراہا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالباری خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کی جانب سے سیلز ٹیکس استثنیٰ ختم ہونے کی وجہ سے ہسپتالوں کا بجٹ بڑھ گیا ہے، جس کی وجہ سے خیراتی اسپتالوں کو غریب مریضوں کے علاج میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم وفاقی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے خیراتی اسپتالوں کو چھوٹ دی ہے، بجلی سمیت تمام سپلائیز میں بھی چھوٹ دی گئی ہے جو بہت اچھا فیصلہ ہے جس کے نتیجے میں اسپتالوں کی بیس فیصد لاگت میں کمی آئے گی اور مریضوں کو ریلیف ملے گا۔
پاکستان کیمسٹس اینڈ ڈڑگسٹس ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ سال سیلز ٹیکس کی مد میں کٹوتی کی گئی رقم سے متعلق کوئی پالیسی واضح نہ ہونے پر بجٹ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے تاہم بجٹ میں فارما کمپنیوں کو سیلز ٹیکس ایڈجسٹمنٹ اور خیراتی اسپتالوں کو ٹیکس چھوٹ کی تجویز کو سراہا ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا تھا کہ پی ایم اے کا شروع دن سے مطالبہ تھا کہ سیلز ٹیکس کا نفاذ سے براہ راست غریب مریض متاثر ہو رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سرکاری اسپتالوں کو مکمل فری کر دینا چاہیے اور کوشش کریں کہ اسپتالوں میں تمام دوائیں بھی مہیا ہوں۔
ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ سرکاری اسپتال اب بھی لیب ٹیسٹ اور ریڈیالوجی سروسز کے لیے کچھ نہ کچھ چارجز لیتی ہیں جسے مکمل مفت ہونا چاہیے۔
انہوں نے صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ صوبائی بجٹ میں صحت کے لیے خطیر رقم مختص کریں کیونکہ عالمی ادارہ صحت کہتا ہے جی ڈی پی کا 6 فیصد مختص ہونا چاہیے لیکن ملکی صورتحال دیکھتے ہوئے ہمارا مطالبہ ہے کہ صحت کے شعبے کے لیے صوبائی بجٹ میں کم سے کم ایک سے ڈیڑھ فیصد جی ڈی پی کا مختص کرنا چاہیے۔
پاکستان کیمسٹس اینڈ ڑگسٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین عمران انور کا کہنا تھا کہ ابھی کوئی ریفنڈ پالیسی وضع نہیں ہے جس کی وجہ سے خام مال پر سیلز ٹیکس کی مد میں 5 ارب روپے ٹیکس دے چکے ہیں جس کے ریفنڈ کی کوئی طریقہ کار وضع نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے میں اگر یہ کہا جا رہا ہے کہ دوائوں کی قیمتوں میں کمی لائے جائے گی تو وہ کیسے ممکن ہوگا، مہنگائی بڑھے گی تو اس کا اثر ادویات پر بھی پڑے گا، ان کا کہنا تھا کہ ایک فارمولا طے ہے جس کے تحت ادویات کی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں۔
طبی ماہرین کا بجٹ میں خیراتی ہسپتالوں سے متعلق تجاویز کا خیرمقدم







