کراچی(نیوز ڈیسک)سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ قریب ہے، اس دوران بلدیاتی اداروں کی قسمت اس بیچ ہے کہ کیا بلدیاتی انتخابات سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت کروائے جارہے ہیں یہ قانون بلدیاتی حکومت کے منتخب نمائندوں کو کم اختیارات دیتا ہے۔
نجی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسٹیک ہولڈرز چاہتے ہیں کہ اسے سپریم کورٹ کے یکم فروری کے فیصلے کے مطابق آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 140 کی روشنی میں تبدیل ہونا چاہیے۔
بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ بلدیاتی انتخابات مقامی انتظامیہ کی تشکیل نہیں بلکہ یہ بے نتیجہ ہوجاتے ہیں اور صوبائی حکومت ایس ایل جی اے 2013 کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال جاری رکھتی ہے۔
فی الحال اپوزیشن اور حکومت کے اراکین پر مشتمل سندھ اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی موجودہ بلدیاتی قانون میں اصلاحات پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، لیکن یہ عمل سست روی کا شکار ہے معلوم ہوتا ہے کہ شاید قانون میں ترمیم پولنگ کے بعد ہو۔
خیال میں سندھ میں بلدیاتی انتخابات دو مرحلوں میں منعقد ہوں گے پہلا مرحلے انتخابات 26 جون جبکہ دوسرا 24 جولائی کو منعقد ہوں گے۔
26 جون کو پہلےمرحلے میں سکھر، لاڑکانہ، میر پور خاص، شہید بے نظیر آباد ڈویژن میں انتخابات منعقد ہوں گے جبکہ دوسرے مرحلہ 24 جولائی کو ہوگا جس میں کراچی اور حیدرآباد میں انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔
تاہم، قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کے آئینی اور قانونی اثرات کیا ہوں گے اور اگر سپریم کورٹ کے یکم فروری کے احکامات کی تکمیل کے برخلاف ایس ایل جی اے 2013 کے تحت بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں تو اس کے مقامی انتظامیہ کے منتخب نمائندوں پر کیا اثرات ہوں گے۔
انتخابات مؤخر کرنے کی تجویز
صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت 19 اراکین پر مشتمل سلیکٹ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں اعتراف کیا گیا کہ بلدیاتی قانون میں ضروری اصلاحات کے بغیر انتخابات بے مقصد ہوں گے۔
انہوں نے متفقہ طور پر تجویز پیش کی کہ انتخابات ملتوی کیے جائے، سندھ حکومت کے وکیل کی جانب سے اجلاس منٹس سندھ ہائی کورٹ میں جمع کروادیئے گئے ہیں۔
وکلا کے مطابق اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کا نفاذ نہ کیا گیا تو انتخابات کا تمام عمل نا قابل استعمال جبکہ بلدیاتی نمائندے بے اختیار ہوں گے۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی اور وزیر اعلیٰ کے مشیر برائےقانون مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ صوبے میں برسرِ اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی قانون میں ترمیم کرنا چاہتی ہے تاکہ بلدیاتی نظام مؤثر اور با اختیار ہوسکے۔
صوبے میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے حوالے سے سندھ حکومت کا مؤقف بیان کرتے ہوئے بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ یہ صوبائی حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ یہ فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت حکومت کے پاس اقتدار منتقل کرنے کا اختیار کے لیکن الیکشن سے متعلق فیصلہ کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔
قانون میں اہم ترامیم کے بغیر انتخابات کے انعقاد کے بعد منتخب نمائندوں کے اختیارات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ عدالت پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے‘۔
انتخابات کالعدم قرار دینے کا فیصلہ
بلدیاتی انتخابات سے متعلق سندھ ہائی کورٹ میں متعدد کیسز میں متحدہ قومی موومنٹ کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ طارق منصور کا ماننا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کا انعقاد مقرر کردہ تاریخوں پرو کرواتا ہے تو اختیارات کا تبادلہ نہیں ہوگا اور منتخب نمائندے بے اختیار ہوں گے۔
بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولنگ کی پوری مشق کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ ای سی پی کی جانب سے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے جاری کردہ نوٹیفکیشن ناقص تھے، یہ قانونی اختیار کے بغیر جاری کیے گئے تھے اور آئین کے آرٹیکل 218 اور 219 کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایس ایل جی اے 2013 کے مطابق اس طرح کے نوٹیفکیشنز کے اجراء کے وقت ای سی پی کا کورم کمپوزیشن مکمل نہیں تھا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نا صرف ایس ایل جی اے میں بلکہ مزید 49 قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے ۔
ایک سوال کہ اگر مذکورہ قوانین میں ترمیم کردی جاتی ہے توکیا بلدیاتی نمائندے با اختیار ہو سکتے ہیں، کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت بڑی مشق ہے جسے مکمل ہونے میں تقریباً ایک سال لگتا ہے، تو اس پورے دورانیے میں بلدیاتی حکومت بے اختیار ہوگی جبکہ صوبائی حکام اختیارات کا استعمال جاری رکھیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کے وکیل علی احمد پلہ کا کہنا ہے کہ ترامیم کے بغیر بلدیاتی انتخابات کروانا بیکار ہے جس کے بعد بلدیاتی حکومت بے اختیار اور ڈمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دی ہے کہ آرٹیکل 140 کے تحت بلدیاتی قانون میں اصلاحات ہونے تک انتخابات ملتوی کیے جائیں، لیکن ہائی کورٹ نے اپیل نہیں سنی۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی بلدیاتی انتخابات مؤخر کرنے کے لیے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔
9 مئی سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے پی ٹی آئی اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی درخواست مسترد کی گئی، دونوں جماعتوں نے عدالت نے بلدیاتی انتخابات ملتوی کروانے کی استدعا کی تھی۔









