اسلام آباد( نیوز ڈیسک)سابق سینیٹر اور کامن ویلتھ انٹرپرینیور کلب پاکستان چیپٹر کے صدرلیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہاہے کہ پاکستان ایک بہت مضبوط اور وسائل سے مالا مال ملک ہے جس کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے بیرونی دنیا کیلئے کھولنے کی ضرورت ہے جس میں کثیر القومی تجارت، ایس ایم ایز کے فروغ، صنعت کاری، زراعت کی تحقیق، آئی ٹی پروجیکٹس، سیاحت، مواصلاتی انفراسٹرکچر، صحت اور تعلیم شامل ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہمیں یورپی یونین، افریقن یونین، او آئی سی اور 54 مما لک پر مشتمل دولت مشترکہ کے ساتھ اپنی بات چیت کو بڑھانے کی ضرورت ہے جن کی سربراہی برطانیہ کر رہاہے،اور ملکہ برطانیہ اس کی سربراہ ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اسلام آباد میں سی ای سی پاکستان چیپٹر کے صدر کی حیثیت سے کامن ویلتھ انٹرپرینیور کلب (CEC) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، اجلاس میں سینیٹر دلاور خان، لیفٹیننٹ جنرل (ر) قادر بلوچ، ایئر مارشل پرویز نواز، ظفربختاوری، شیخ اعجاز، وسیم قریشی، محمد صفدر، مرزا عامر، صبور سیٹھی،حامد میر، چوہدری سہیل،مرزا اختیار بیگ اور ایڈووکیٹ جعفر زیدی نے شرکت کی، کامن ویلتھ انٹرپرینیور کلب (CEC) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سی ای سی اسلام آباد چیپٹر کے صدر،سیکرٹری جنرل یو نائیٹڈ بزنس گروپ و سابق صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس ظفر بختاوری نے کہا کہ پی آئی اے سمیت تمام نجی ائیر لائنز کو تمام دولت مشترکہ ممالک کیلئے براہ راست پروازیں شروع کر نی چاہیئے،اس سے ان ممالک سے پاکستان کے تجارتی وعوامی روابط بڑھیں گے اورکاروبار کو فروغ ملے گا،برطانوی ائیر لائنز کی بندش پر دیگر ممالک کو چاہیئے کہ پاکستان کیلئے پروازیں شروع کریں اور جو پہلے چل رہی اسکی تعداد میں اضافہ کریں،پاکستان دنیا بھر کیلئے سرمایہ کاری کیلئے ایک آئیڈیل ملک ہے،یہاں کے کاروباری افراد بھی عالمی مارکیٹ تک اپنی پراڈکٹس پہنچانے کے خواہاں ہیں،اس کلب کی بنیاد ایک متحرک پاکستانی بین الاقوامی شہرت یافتہ بزنس ٹائیکون مبین رفیق نے رکھی تھی جو سی ای سی کے چیئرمین ہیں اور لندن میں تعینات ہیں، 20ویں صدی کے وسط میں برطانوی سلطنت کے خاتمے کے بعد دولت مشترکہ قائم کی گئی۔ سی ای سی درحقیقت ایک عالمی تھنک ٹینک ہے جس میں ہزاروں ایس ایم ایز، ملٹی نیشنلز، انٹرپرینیورز ٹیکنوکریٹس اور صنعتکار شامل ہیں جو عالمی سطح پر تجارت، تعاون اور فنڈز فراہم کرتے ہیں۔ وہ توانائی، دولت کے انتظام، ٹیکسٹائل، انفراسٹرکچر، صنعتی پارکس، کان کنی ہاؤسنگ، تعلیم، آٹوموبائل، زراعت، آئی ٹی اور سیاحت وغیرہ کا کاروبارکرتے ہیں۔
تجارتی سرگرمیاں بیرونی دنیا کیلئے کھولنے کی ضرورت ہے ،لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم








