راولپنڈی(نیوز ڈیسک ) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے دونوں اجلاسوں میں حساس اداروں نے بتایا کہ عمران خان حکومت کے خلاف کوئی غیر ملکی سازش ہوئی نہ اس کے ثبوت ملے ،دفاعی بجٹ عملاً کم ہوا ،ہم محدود وسائل کے اندر رہ کر اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں ،حقائق مسخ اور جھوٹ کا سہارالے کر کسی کو ادارے کو نشانہ بنانے کا حق حاصل نہیں، آرمی چیف کا حالیہ دورہ چین بہت اہم تھا، اس دوران کئی معاہدوں کو حتمی شکل دی گئی، عسکری سفارت کاری نے پاک چین دوستی کو مزید مستحکم کیا ،سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی صحت بہت خراب ہے،فوج اور اس کی قیادت کا مؤقف ہے کہ انہیں ملک واپس لایاجانا چاہیےتاہم فیصلہ پرویزمشرف کی فیملی نے کرناہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف کا حالیہ دورہ چین بہت اہم تھا، جنرل قمر جاوید باجوہ پہلے آرمی چیف تھے جو صدر شی جن پنگ سے ملے، پاکستان کے چین کے ساتھ سٹرٹیجک اور تعلقات انتہائی اہم ہیں، چین نے ہر مشکل گھڑی میں ہمارا ساتھ دیا،چین کے ساتھ دفاعی تعلقات سٹرٹیجک نوعیت کے ہیں اس دورے کا مقصد تعلقات کو مضبوط بنانا تھا، چین کےساتھ تعلقات خطےمیں امن کے لیے بہت اہم ہیں،سی پیک پاک چین دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے، پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی سکیورٹی فوج کودی گئی ہے، جس کے لئے ہم نے دوڈویژنز بنائے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چین نے پاکستان کی بری ،بحری اور فضائی قوت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیاآرمی چیف کا یہ دورہ اسی سلسلے کی اہم کڑی تھی۔ انہوں نے کہاکہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سکیورٹی سےمتعلق کسی قسم کی کمی نہیں آئی، حکومتی سطح پر سی پیک پر کام ہو رہا ہے، گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ رابطوں میں پیشرفت ہو رہی ہے، اس دورے کے دوران ٹریننگ، خفیہ معلومات کے تبادلے جیسے شعبوں میں تعاون پر بات چیت ہوئی اور متعدد مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ بجٹ میں ہمیشہ ڈیفنس بجٹ پر بحث شروع ہو جاتی ہے، دفاعی بجٹ میں درپیش خطرے کا ادراک ،چیلنجز اور محدود وسائل کو مدنظر رکھا جاتا ہے، محدود وسائل کے اندر رہ کر تمام ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں، عملاً دفاعی بجٹ کم ہوا ہے،بھارت نے ہمیشہ دفاعی بجٹ کو بڑھایااور اس کی دفاعی صلاحیت میں اضافے کو پاکستان کو توجہ کا مرکزبنایا جاتا ہے،بھارت کی دفاعی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری تیاری ضروری ہے،ہماری پچاس فیصد فوج مشرقی اور چالیس فیصد مغربی سرحد پر تعینات ہے جب کہ باقی بیس فیصدکنٹونمنٹس اور داخلی سلامتی کے لئے کام کررہے ہے۔انہوں نے کہاکہ 2020ء سے پاکستانی افواج نے اپنے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا، مہنگائی کے تناسب سے کم ہوا ہے، دفاعی بجٹ جی ڈی پی کی شرح کے لحاظ سےنیچے جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ فو ج نے کفایت شعاری کے حوالے سے بہت اہم اقدامات کئے ہیں ۔ آرمی چیف نے ہدایت دی ہے مشقوں کو بڑے پیمانوں کے بجائے چھوٹے پیمانے پر کر لیا جائے، چھوٹی مشقوں سے بچت ہو گی، پچھلے سال کورونا کی مد میں جو رقم ملی اس میں سے 6 ارب واپس کیا تھا،فوجی سازوسامان کی مد میں ملنے والی گرانٹ میں سے ساڑھے تین ارب روپے خزانے میں جمع کرائے گئے۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ کچھ عرصے سے فوج اور اس کی قیادت کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے اور مختلف افواہیں اڑائی جاتی ہیں جو افسوسناک امرہے ایسانہیں ہونا چاہیے، اپنی رائے رکھنے کا ہر ایک کوحق حاصل ہےمگر حقائق مسخ کرنے اور جھوٹ کا سہارا لے کر ادارے کو نشانہ بنانے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔ امریکی مراسلے سے متعلق ایک سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پہلے بھی واضح کر چکا ہوں، سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ میں کسی نے نہیں کہا سازش نہیں ہوئی، ایسا بالکل بھی نہیں ہے، قومی سلامتی کمیٹی کے دونوں اجلاسوں کے دوران چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف، تینوں سروسزچیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی موجود تھے، ان اجلاسوں کے شرکا کو ایجنسیزکی طرف سے آگاہ کیا گیا کہ عمران خان حکومت کے خلاف کسی قسم کی سازش کے شواہد نہیں ہیں، انہوں نے کہاکہ ہماری ایجنسیز ملک کے خلاف ہر طرح کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے چوبیس گھنٹے کام کررہی ہیں اور انہوں نےواضح کیاکہ کسی قسم کی سازش کا کوئی ثبوت نہیں ملاہے۔سازش اورمداخلت میں فرق سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ سفارتی معاملہ ہے اور اس کا جواب سفارتکار ہی دے سکتا ہے۔ایف اے ٹی ایف سے متعلق انہوں نے کہاکہ فیٹف کے موجودہ اجلاس سے متعلق میں کوئی تبصرہ نہیں کروں گا،بھارت نے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کے لئے بہت لابنگ کی ،2019میں حکومت کی درخواست اور آرمی چیف کی ہدایت پر ڈی جی ایم او کے تحت ایک سیل قائم کیا گیا اس سیل نے تیس سے زائدمحکموں اور وزارتوں کی مشاورت سے ایک بھرپورایکشن پلان تیار کیا اور اس پر عملدرآمد ہوااس ضمن میں قانو ن سازی بھی ہوئی، ایکش پلان کے ستائیس میں سے چھبیس نکات پر عمل ہوا ہے، جس کے نتیجے میں زرمبادلہ میں تاریخی اضافہ ہوا،منی لانڈرنگ کی مد میں 58ارب روپے ریکورکئے گئے۔ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پرویز مشرف کی صحت بہت خراب ہے، اللہ انہیں صحت دے،ادارے اور اس کی لیڈرشپ کا مؤقف ہے کہ پرویز مشرف کو ملک واپس لایاجانا چاہیے،اسی لئےان کے خاندان سے رابطہ کیا گیا،تاہم پرویز مشرف کی واپسی کا فیصلہ ان کی فیملی اور ڈاکٹرز نے کرنا ہے۔ پرویزمشرف کی فیملی کے جواب کے بعد انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔
غیر ملکی سازش ہوئی نہ ثبوت ملے ،دفاعی بجٹ عملاً کم ہوا،آرمی چیف کا دورہ چین اہم تھا،ڈی جی آئی ایس پی آر








