بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ کے تمام کیسز کا فیصلہ ایک ساتھ سنانے کی استدعا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل انور منصور خان نے تمام فارن فنڈنگ کے تمام کیسز کا فیصلہ ایک ساتھ سنانے استدعا کرتے ہوئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کردی۔

نجی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن نے حال ہی میں دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، یہ درخواست بھی گزشتہ 8 سالوں میں فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں تاخیر کے لیے دائر کی جانے والی درخواستوں اور رٹ پیٹیشنز کی ایک کڑی ہے۔

گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں پی ٹی آئی کے قانون ساز انور منصور خان نے ایک بار پھر سیاسی فنڈنگ کی قانونی شقیں دہرائیں، انہوں نے اپنے دلائل ختم کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی آج (بدھ) کو اپنے دلائل مکمل کرے گی۔

توقع کی جارہی ہے کہ الیکشن کمیشن درخواست گزار کے وکیل سید حسن شاہ کو پی ٹی آئی کے کئی ہفتوں سے جاری دلائل پر جواب کی اجازت دے گا۔

الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے درخواست گزار اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ تقریباً 8 سال کی طویل جدوجہد کے بعد کیس حتمی مراحل میں پہنچ گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کیس کا مقصد سیاسی جماعتوں کو منظم بنانا ہے تاکہ وہ اہل اور قابل اعتماد رہنما کے طور پر عمل کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو نئی اور اہل قیادت کی ضرورت ہے لیکن جب تک سیاسی جماعتیں انفرادی یا خاندانی اجارہ داری کا شکار رہیں گی، رہنمائی کا شجر خشک ہوتا رہے گا۔

اکبر ایس بابر نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عمران خان بڑے فیصلے کریں، انہوں نے ایسا راستہ چنا ہے جس نے پاکستان کی سیاست کو تبدیل کرنے سے متعلق پارٹی کے مقصد کو تباہ کردیا ہے، اسے مزید خراب نہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کسی بھی قیمت پر طاقت حاصل کرنے کے راستے کا انتخاب کیا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ وہ ہٹ جائیں اور پارٹی کی باگ ڈور ان لوگوں کے حوالے کریں جنہوں نے پارٹی کو شروع سے بنایا اور اس کے بانی نظریات پر کاربند رہے۔

اکبر ایس بابر نے نیلسن منڈیلا کی مثال دی کہ انہوں نے جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے 27 تک قربانی دی، لیکن جب وقت آیا تو انہوں نے طاقت اور پارٹی کی قیادت کو ترک کرتے ہوئےاس کی باگ دوڑ ان لوگوں کو سونپی جنہوں نے تبدیلی کے لیےجدوجہد کی۔

الیکشن کمیشن نے دھاندلی کے الزامات مسترد کردیے

پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر منصوبے کے تحت دھاندلی کے الزامات مسترد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے کہا کہ انہوں نے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف الیکشن کے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔

ایک بیان میں پی ٹی آئی کے سربراہ کی جانب سے تازہ الزامات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کمیشن کا کہنا تھا کہ ’ الیکشن کمیشن الزامات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں مسترد کرتا ہے‘۔

الیکشن کمیشن کا یہ بیان پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے الزامات کے ایک روز بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے مسلم لیگ (ن) اور الیکشن کمیشن پر آئندہ انتخابات میں ملی بھگت سے دھاندلی کا الزام لگایا تھا۔

عمران خان نے خاص طور پر الیکشن کمیشن کے سربراہ سکندر سلطان راجا کو نشانے بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور مسلم لیگ (ن) کی صدر مریم نواز سے ہفتہ وار ہدایات لیتے ہیں۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ جیسے انہوں نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بلدیاتی الیکشن کروائے اسی طرح پنجاب کے 20 حلقوں میں بھی شفاف انتخابات کے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے مذکورہ انتخابات میں خلل اور غیر قانونی کارروائی کا ناصرف نوٹس لیا بلکہ با رسوخ افراد کے خلاف بلا خوف کارروائی بھی کی۔

انہوں نے عزم کیا کہ وہ قانون اور آئین کے مطابق خدمات سر انجام دیتے رہیں گے۔

الیکشن کمیشن نے پنجاب کے 20 حلقوں میں شفاف اور آئین و قانون کے مطابق ووٹنگ کی یقین دہانی بھی کروائی۔