بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ندا یاسر خدا کا واسطہ ہے شو سے پہلے کچھ پڑھ لیا کرو، اس بار ندا یاسر نے کیا کر ڈالا جو لوگ ایسا کہنے پر مجبور ہو گئے

کراچی (نیوز ڈیسک)ندا یاسر کا مارننگ شو خواتین کا مقبول ترین شو ہے۔ اس شو کی مقبولیت جب بھی کم ہونے لگتی ہے ندا یاسر کوئی نہ کوئی ایسا کام کر گزرتی ہیں جس کے بعد ان کے شو کا نام سب کی زبانوں پر ہوتا ہے- گزشتہ کچھ ماہ پہلے فارمولا ون ریس کے حوالے سے ندا یاسر کی لا علمی اور میزبانوں سے پوچھے گئے سوالات کی گرد ابھی بیٹھی ہی تھی کہ ایک بار پھر ندا یاسر نے ایک نیا کھڑاگ پیدا کر دیا- ماہر غذائیت کو بلا تو لیا مگر پتہ کچھ نہیںیہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کی عقل محدود ہے اور اس کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ہر شعبہ زندگی میں مہارت کا دعویٰ کر سکے مگر کوشش کرنا بھی ضروری ہوتا ہے- اس بار جب ندا یاسر نے وزن کم کرنے کے لیے مشورہ حاصل کرنے کے واسطے جس مہمان کو بلایا وہ ایک ماہر غذائيت تھیں جن سے ندا یاسر کو وزن کم کرنے کے لیے آج کل کے مشہور ترین ٹاپک انٹرمیٹینٹ فاسٹنگ پر بات کرنی تھی- لیکن شو کے لیے ہوم ورک مکمل نہ ہونے کے سبب وہ اس کو بار بار انٹر میڈيٹ فاسٹنگ کہتی رہیں جو کہ سراسر غلط تھا ان کی اس غلطی کو سوشل میڈیا صارفین نے نہ صرف پکڑ لیا بلکہ اس پر طرح طرح کے تبصرے بھی کر ڈالے-

https://twitter.com/NutsAtNust/status/1535123017847738369?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1535123017847738369%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fhamariweb.com%2Farticles%2F153123

 

ندا تو ندا ڈاکٹر بھی سبحان اللہاس بار ندا یاسر نے ایک ماہر غذائيت کو بلایا جن سے وزن کم کرنے کے طریقوں پر بات کی مگر محسوس یہ ہو رہا ہے کہ جس کو بلایا وہ بھی کوئی سفارشی ہی تھیں- اسی وجہ سے انہوں نے جب وزن کم کرنے کے لیے انٹرمیٹینٹ فاسٹنگ کے بارے میں بتایا تو اس کو انٹر میٹینٹ کہنے کے بجائے انٹر میڈيٹ کہنا شروع کر دیا- انٹر میٹینٹ فاسٹنگ؟انٹرمیٹینٹ فاسٹنگ سے مراد یہ ہے کہ دن کے سولہ گھنٹوں کا روزہ رکھنا ہے اور بقایا صرف آٹھ گھنٹوں تک ہی کھانا پینا ہوتا ہے اس طویل وقفے تک بھوکے رہنے کے سبب وزن میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے- سوشل میڈيا صارفین کو ندا یاسر پر تنقید کا موقع ملاسوشل میڈيا صارفین تو ندا یاسر پر تنقید کرنے کے موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس حوالے سے لوگوں نے طرح طرح کے تبصرے کر ڈالے-

1: کیا یہ بہتر ہوتا کہ پروگرام سے پہلے ریسرچ کر لیتیںفاطمہ خالد نامی ایک ماہر غذائیت کا یہ کہنا تھا پاکستان کے زيادہ تر شوز بغیر کسی بھی تیاری کے پیش کر دیے جاتے ہیں اور ایسا ہی اس شو میں بھی ہوا- کیا یہ بہتر ہوتا کہ پروگرام میں آنے سے قبل کچھ تیاری کر لیتیں- 2: ندا نے ایک بار پھر بغیر تیاری کے پروگرام کیاایک صارف نے تو ندا یاسر پر تنقید کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ندا یاسر نے بغیر تیاری اور جاہلیت کا سلسلہ ایک بار پھر جاری رکھا- 3: یہ خود انٹرمیڈيٹ فیل ہےجب کہ ایک صارف نے ندا یاسر کی بار بار کی ان غلطیوں پر ان کو انٹر میں فیل قرار دے دیا- لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کیمرے کے پیچھے بیٹھ کر تنقید کرنا اور کمنٹ کرنا دنیا کا آسان ترین کام ہے جب کہ کیمرے کے سامنے لائيو شو کرنے پر جس طرح کا پریشر کا سامنا ہوتا ہے وہ کوئی آسان کام نہیں ہے- تاہم ندا یاسر سے بھی درخواست ہے کہ پروگرام کرنے سے پہلے تھوڑا ہوم ورک کر لیا کریں تاکہ ایسے مسائل سے بچ سکیں-