بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے زیر اہتمام نبی اکرم ۖ ٖؐکی شان میں گستاخی کے خلاف مظاہر ہ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی( اویکیو ٹرسٹ کمپلیکس) کے زیر اہتمام اسلام آباد میں بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی کی جانب سے نبی اکرم ؐکی شان میں گستاخی کے خلاف مظاہر ہ کیا گیا۔ مظاہرے میں یونیورسٹی کے طلبا ء اور انتظامیہ نے بھرپور تعداد میں شرکت کی۔ بھارتی حکومت اور گستاخ لیڈروں کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر حرمت رسولؐ پر جان بھی قربان ہے، بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے، تمام انبیاء کی شان میں گستاخی کے خلاف عالمی سطح پر قانون سازی کی جائے اورگستاخ رسولؐ کے خلاف جنگ، تحریک حرمت رسولؐ کے سنگ، جیسی تحریریں درج تھیں۔مظاہرین نے کہا کہ ہ مسلمان ممالک او آئی سی کا اجلاس بلائیں‘ گستاخیوں کے خلاف عالمی سطح پر قانون سازی کے لئے تحریک مضبوط کریں۔ گستاخی رسول میں ملوث بھارتی لیڈروں کو گرفتار کر کے اسلامی قانون کے مطابق سزا دی جائے۔مظاہرین نے مزیدکہا کہ حکومت پاکستان گستاخیوں کے معاملہ کو او آئی سی اور اقوام متحدہ سمیت دیگر بین الاقوامی فورمز پر اٹھائے۔بھارت میں فاشسٹ جماعت نے رحمت للعٰلمین کی شان میں گستاخی کرکے پوری امت کی دل آزاری کی ہے۔ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ کوئی بھی مسلمان پھر چاہے وہ کتنا ہی گنہگار کیوں نہ ہو وہ اپنا سر تو کٹواسکتا ہے مگر اپنے آقا کی شان میں کوئی گستاخی برداشت نہیں کرسکتا۔ مودی سرکار کی جانب سے عبادت گاہوں پر حملے اور مسلمانوں کے لیے بھارت میں زمین تنگ کرنے کے بعد آپ صہ کی شان میں گستاخی ان کی اسلام، مسلمان اور پیغمبر اسلام دشمنی کا واضح ثبوت ہے، حقوق انسانی، صحافتی تنظیموں اور اقوام عالم کو مودی سرکار کی اسلام دشمنی کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے۔ہ ہندوستانی انتہا پسند حکومت کے ترجمان ملعون نوپور شرما کی طرف سے رسالت ماب آنحضرت ۖ کی توہین کرنے سے امت مسلمہ کی شدید دل آزاری ہوئی ہے۔ مسلمانوں کے جذبات کو شدید مجروح کیا ہے۔ حکومت بھارتی مصنوعات کا مکمل ہر چیز کا بائیکاٹ کرے، بھارتی سفیر کو فی الفور ملک بد ر کیا جائے۔ بھارت میں نبی کریمۖکی شان میں گستاخی کی گئی ، عرب ممالک سمیت مسلم ممالک نے بھارت کے خلاف اواز اٹھائی لیکن ہم پاکستانی حکومت کے منتظر رہے کہ یہ بھی کوئی آواز اٹھائیں گے۔