اسلام آباد: وزیردفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ مودی نے چارووٹوں کے لئے ساراڈرامہ رچایا، امریکی نائب صدر نے گنجائش نکالی ہے کہ بھارت کو فیس سیونگ کرنے کے لئے کچھ کرنا چاہئے ۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ بھارتی رافیل طیارے مسلسل پاکستانی سرحدوں کے قریب پروازیں کررہے ہیں، ہم بھارت کو فیس سیونگ نہیں کرنے دیں گے، اس کا منہ کالاکریں گے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں دہشت گردوں کے خلاف واضح کارروائیاں کی ہیں۔
ایک اورٹی وی انٹرویومیں خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت کی طرف سے خطرہ ٹلنے والی بات کی تردید کرتا ہوں، خطرہ اب بھی موجود ہے، ہماری بھی تیاری مکمل ہے، ہمارا سپہ سالار فرنٹ سے لیڈ کر رہا ہے، ہماری افواج کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی، بھارت بہت بڑے دھچکے کیلئے تیار رہے۔ جو کہہ رہے ہیں بانی کو جیل سے نکال کرساتھ بٹھائیں، وہ کیا ماضی بھول گئے۔ کوئی شرم کریں، کوئی حیا کریں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت کی طرف سے خطرہ ٹلنے والی بات کی تردید کرتا ہوں، خطرہ 100 فیصد موجود ہے، ہماری بھی تیاری مکمل ہے، ہمارا سپہ سالار فرنٹ سے لیڈ کر رہا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کا دباؤ موجود ہے، اس دباؤ کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، 2،4 روز میں واضح ہو جائے گا، پہلگام حملے میں کوئی سچائی نہیں ہے، اگر سچ ہوتا تو بھارت تحقیقات سے کیوں بھاگ رہا ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاک فوج کے سپہ سالار فرنٹ سے لیڈ کر رہے ہیں، وہ اپنی مثال سے فوج کے حوصلے بڑھا رہے ہیں، آرمی چیف نے تمام محاذوں کا دورہ کیا ہے، جوانوں کے ساتھ گھلنے ملنے سے اعتماد کی فضا میں اضافہ ہوا۔
خواجہ آصف نے کہاکہ ہماری افواج کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی، بھارت بہت بڑے دھچکے کیلئے تیار رہے، ابھینندن کے وقت کیا بانی ہمارے ساتھ بیٹھا تھا؟ جو کہہ رہے ہیں اسے جیل سے نکال کر ساتھ بٹھائیں، یہ کوئی شرم کریں، کوئی حیا کریں، کیا ان لوگوں نے ماضی کو ’ڈیلیٹ‘ کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ وطن کے ساتھ مشروط وفاداری کا اظہار صرف پی ٹی آئی ہی کرسکتی ہے، باقی تمام جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہے، ایسی حرکتیں نہ کرتا تو آج بانی باہر ہوتا۔ میں ایسے موقعوں پر یہ گفتگو نہیں کرنا چاہتا کیوں کہ ان کا رویہ سب کے سامنے ہے۔
خواجہ آصف نے بتایا کہ پیر کو قومی اسمبلی کا سیشن ہے اس میں اس موضوع پر بحث ہوگی، جیسے سینیٹ میں ہوئی ہے اس کے بعد جوائنٹ سیشن کی ضرورت پڑی تو جوائنٹ سیشن بھی کریں گے۔
سرحدی علاقے سیالکوٹ کی عوام کے مورال سے متعلق پرسوال گیا کہ لوگ کیا سوچ رہے ہیں، اس پر انھوں نے جواب دیا کہ سیالکوٹ کے نزدیک کنٹرول لائن نہیں وہ ورکنگ باؤنڈری ہے اور وہاں سیالکوٹ کے متعدد گاؤں آباد ہیں اور لوگ گھروں میں اطمینان کے ساتھ بیٹھے ہیں کیوں کہ انھیں اپنی فوج پر پورا اعتماد ہے اور پاکستان کے چپے چپے کا دفاع کیا جائے گا۔









