واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) یومِ تشکر کے موقع پر واشنگٹن میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ میں پاکستان کے سفیر، رضوان سعید شیخ نے جنوبی ایشیا کی موجودہ صورتحال، بھارتی جارحیت اور پاکستان کے مؤقف پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ پاکستان دنیا کے حساس ترین خطے میں واقع ہے جہاں کی تاریخ قیام پاکستان سے قبل ہی پیچیدہ محرکات سے عبارت رہی ہے، اور گذشتہ اٹھتر برس کے واقعات نے ان پیچیدگیوں کو مزید بڑھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو بخوبی اندازہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں کسی بھی کشیدگی کے اثرات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے امریکی قیادت کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا اور کہا کہ امریکہ نے ہمیشہ خطے میں کشیدگی میں کمی لانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
سفیر نے پہلگام واقعے کے تناظر میں کہا کہ اس واقعے کا “اسکرپٹ” پہلے سے تیار کیا گیا تھا جس کا مقصد بھارت کی داخلی کمزوریوں، انتخابی دباؤ اور علاقائی تسلط کے عزائم کو پورا کرنا تھا۔ انہوں نے بھارتی پارلیمنٹ میں “اکھنڈ بھارت” کے نقشے کی موجودگی کو ہندوتوا پر مبنی دہشت گردانہ ذہنیت کا ثبوت قرار دیا۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ 22 اپریل سے آج تک بھارت وہ ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے جن کی پاکستان نے بارہا درخواست کی۔ اس کے برعکس بھارتی میڈیا اور قیادت نے فوری طور پر جنگی بیانیہ اپنایا اور معصوم شہریوں، خواتین، بچوں حتیٰ کہ مسجدوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
سفیر نے کہا کہ پاکستان نے بارہا واضح کیا کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ “افواج پاکستان اور 25 کروڑ عوام بھارتی جارحیت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوئے اور دشمن کی غرور پر مبنی حکمت عملی کو خاک میں ملا دیا۔”
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ بھارتی قیادت نہ صرف اپنی سیاسی جنگ ہار گئی بلکہ اس نے اپنے جدید ہتھیار، خصوصاً رافیل طیاروں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے فتح کے باوجود امن کو ترجیح دی کیونکہ 1.6 ارب انسانوں کی زندگیاں کسی سیاسی مہم جوئی کی بھینٹ نہیں چڑھائی جا سکتیں۔
سفیر پاکستان نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، اور دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو مٹا نہیں سکتی۔ انہوں نے قوم کو پیغام دیا کہ “بنیان مرصوص” یعنی داخلی اتحاد و استحکام کا فلسفہ صرف دفاعی طاقت سے نہیں، بلکہ معاشی استحکام سے مکمل ہوگا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر نے پاکستانیوں سے اپیل کی کہ آج کے دن ذاتی، فرقہ وارانہ اور سیاسی اختلافات سے بالا ہو کر ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔









