اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے سابق وزیراعظم عمران خان سے اڈیالہ جیل میں کسی قسم کی ملاقات یا مذاکرات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کے پاس نہ کوئی ایلچی گیا اور نہ ہی کوئی بات چیت ہوئی ہے۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے اپنے بیان میں کہا: “عمران خان سے جیل میں کسی قسم کی گفت و شنید نہیں ہوئی۔ بعض افراد محض خود کو تسلی دینے کے لیے افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ اگر مستقبل میں کوئی بات ہو گی تو وہ سب پر عیاں ہو جائے گی۔”
یہ وضاحت ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں، اور ان کی صحت کو لے کر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں پاکستانی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے ان کا طبی معائنہ کیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک جعلی میڈیکل رپورٹ گردش کرنے لگی۔
مذکورہ جعلی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمران خان کو جیل میں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جسے متعلقہ حکام نے مکمل طور پر بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
یہ تمام صورت حال عمران خان کی قید، ان کی صحت سے متعلق قیاس آرائیوں اور ان کے سیاسی مستقبل پر اٹھتے سوالات کو مزید اجاگر کر رہی ہے، جبکہ افواہوں اور غلط معلومات کا ماحول اس معاملے کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔









