سکھ فار جسٹس کے سربراہ اور خالصتان تحریک کے عالمی رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے بڑا بیان دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ مودی سرکار نے بلوچستان میں خضدار شہر کے اندر اسکول کے بچوں کی بس کو حملے کو نشانہ بنوایا، پاکستان کو بدلہ لینا چاہیے۔
ایکس پر اپنے ایک بیان میں بلوچستان میں بھارتی دہشتگردی پر سکھ فار جسٹس کےسربراہ گرپتونت سنگھ پنوں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے بلوچستان میں دہشتگردی کی اور معصوم بچوں کی جان لی، شواہد سے واضح ہےکہ دہشت گردی کا واقعہ بھارتی پراکسیز نے مودی سرکار کے کہنے پر کیا ہے، عالمی برادری اور افواج بھارت کو کٹہرے میں کھڑا کریں۔
Balochistan Train Attack Bears the Hallmarks of India’s RAW – NSA
Washington DC (March 13, 2025)
Rein In Modi’s Global Web of Covert Terror: SFJ To Intelligence Chiefs Attending Security Conclave:
In a damning revelation, U.S.-based secessionist group Sikhs for Justice… pic.twitter.com/sZ1narDaV5
— Gurpatwant Singh Pannun (@SFJGenCounsel) March 13, 2025
انہوں نے کہا کہ ہم پوری دنیا کی افواج اور عالمی قوتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارت کی دہشتگردی کا نوٹس لیا جائے، ورنہ اس سے خطے کے امن کو خطرات برقرار رہیں گے، پوری سکھ کمیونٹی معصوم شہدا کے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے، معصوم بچیوں کے خون کے پیچھے مودی کا ہاتھ ہے، جو خون بلوچستان میں بہایا گیا اس کا حساب لینا چاہیے۔
یاد رہے کہ بھارت پاکستان کے علاوہ کینیڈا، امریکا میں بھی سکھ رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے، اور یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، گزشتہ سال کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارت کے سفارتی اہلکاروں کو ملک بدر بھی کیا تھا، جن پر الزام تھا کہ وہ سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزمان کو سپورٹ کر رہے تھے۔
اسی طرح امریکی سرزمین پر سکھ رہنما کے قتل کے بعد بھی بھارت کی جانب سکھ کمیونٹی کے انگلیاں اٹھائی تھیں، مودی سرکار خود دہشتگردی میں ملوث ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی را کے اہلکار بیرون ملک پراکسیز کے ذریعے کارروائیاں کرواتے ہیں۔
پاکستان میں کالعدم قرار دی گئی بلوچستان لبریشن آرمی اور دیگر تنظیموں کے کارکنوں کو بھارت میں دہشتگردی کی تربیت کے لیے باقاعدہ ٹریننگ کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔
آپریشن بنیان مرصوص کے دروران پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں اسی طرز کا ایک نیٹ ورک چلانے والے بھارتی افسر (جو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے روپ میں وہاں تعینات تھا) راج کمار تھاپا کو نشانہ بنایا تھا۔









