لندن (نیوز ڈیسک) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستانی پارلیمانی وفد نے یورپی پارلیمنٹ میں بین الاقوامی تجارتی کمیٹی (INTA) کے چیئرمین برنڈ لانجے سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تجارت، علاقائی امن و استحکام اور بھارت کی حالیہ جارحانہ پالیسیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
وفد نے بھارت کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنانے، سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے جیسے اقدامات کو نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ اخلاقی و معاہداتی اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے ملاقات میں زور دیا کہ یورپی یونین کو، بطور قانون کی حکمرانی کے علمبردار، بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ وہ ایسے غیرقانونی اور خطرناک اقدامات سے گریز کرے جو خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کا حامی ہے۔
ملاقات میں وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک اور سابق نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی بھی شریک تھے، جنہوں نے خطے میں امن اور پائیدار ترقی کے لیے یورپی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ ملاقات اس وقت ہوئی ہے جب جنوبی ایشیا میں جغرافیائی کشیدگی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن رہی ہے، اور پاکستان سفارتی سطح پر اپنی تشویشات کو اجاگر کر رہا ہے۔









