اسلام آباد(صغیر چوہدری )
حکومت کی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے وفاقی بجٹ کو مسترد کردیا۔
شرمیلا فاروقی نے حکومت کو آئینہ دیکھا دیا ۔
پاکستان پیپلز کی رہنما ممبر قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ
بجٹ کی کتاب میں سے اچھے اقدامات نکال کر حکومت کی تعریف ضروری ہے بجٹ اسٹیٹمنٹ پڑھا اور اعدادوشمار دیکھے اس میں سب سے بھیانک چیز قرضہ ہے ہم سب قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اس قرضے کو کم کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی بنائی؟
وزیر دفاع کی تقریر سنی کھری کھری باتیں کرتے ہیں وزیر دفاع نے ٹیکس کی چوری کا اعتراف کیا ہے۔
یہ چوری کون روکے گا یہ چوری روکنا تو ایف بی آر کی زمہ داری ہے جب ادارہ اپنی ناکامی دیکھائے تو کیا کرے۔
تنخواہ دار طبقہ پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔
کہا جا رہا تھا کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف ملے گا ۔۔کوئی ریلیف نہیں ملا۔
دس لاکھ لوگوں نے باہر ممالک نوکریوں کے لیے آپلائی کیا سات لاکھ کے قریب ملک سے باہر گئے وہ ہمارے ذہین دماغ تھے بڑے بڑے اداروں کو ٹیکس ریلیف دیا گیا ہے ان کے نام معلوم ہے اگر میں نام لونگی تو پریشانی میں آجاؤنگی جب انکو ریلیف دیا جا سکتا ہے تو تنخواہ دار طبقے کو کیوں نہیں۔









