بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

انتخابات کے دوران فوج پولنگ اسٹیشنز سے دور رہنے کی خواہاں

راولپنڈی (نیوز ڈیسک)عام انتخابات 2018 کے برعکس ملک کی فوج چاہتی ہے ضمنی اور بلدیاتی انتخابات میں سیکیورٹی کی فراہمی کے عمل سےدور رہے، لیکن اگر پولنگ اسٹیشنز کے اندر فوجی اہلکار تعینات نہ کیے گئے تو الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل کے دوران ضرورت کے پیشِ نظر اپنی ’کوئیک ری ایکشن فورس‘ کی موجودگی کی یقینی دہانی کروائی ہے۔

نجی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے سیکریٹری عمر حامد خان نے قومی اسمبلی کی نشست این اے 245 پر ضمنی انتخابات سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مذکورہ فورس کی موجودگی کے بارے میں انکشاف کیا۔

خیال رہے حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عامر لیاقت حسین کے اچانک انتقال کے بعد این اے 245 کی نشست خالی ہے۔

عمر حامد خان نے کہا کہ ’ الیکشن کمیشن نے (انتخابی عمل کے دوران) فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی درخواست کرتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مراسلہ لکھا تھا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ اب مسلح افواج کی یہ پالیسی ہے کہ وہ پولنگ اسٹیشنز سے دور رہیں گے، ہم اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے، لیکن یہ ہماری خواہش ہے کہ فلیگ مارچ اور کیو آر ایف سے زیادہ ہونا چاہیے، اسی وجہ سے ہم نے چیف آف آرمی اسٹاف کو خط لکھا تھا۔

عمر حامد خان نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ پالیسی کتنی مضبوط ثابت ہوگی۔

انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ سندھ میں منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات اور ملک بھر میں ضمنی انتخابات یکساں ہدایات کے پیشِ نظر ہونے کا امکان ہے۔

سندھ میں بلدیاتی انتخابات اور ملک کے مختلف شہروں میں ضمنی انتخابات کے حوالے سے سیکریٹری الیکشن کمیشن نے یہ بات واضح کی کہ پولنگ اسٹیشنز میں فوجی اہلکار تعینات نہیں ہوں گے، تاہم پیراملیٹری رینجرز فورسز ’ پولنگ اسٹیشن کے قریب‘ رہی گی۔

رابطہ کرنے پر الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ مسلح افواج نے حالیہ مہینوں خیبر پختونخوا میں ہونے والے دونوں ضمنی اور بلدیاتی انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے حفاظتی انتظامات میں تیسرےدرجے پر پوزیشن لی ہے۔

پولیس حکام، اور ان کے بعد پیرا ملیٹری فورسز (پاکستان رینجرز اور فرنٹیئر کونسٹیبلری) کی جانب سےپہلے اور دوسرےنمبر پر خدمات انجام دی گئیں۔

عام انتخابات 2018 میں الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ اسٹیشنز میں مسلح افواج کو وسیع اختیارات دیے گئے تھے تاہم اس غیر معمولی اقدامات نے اہم سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کے گروپوں کی شدید تنقید کو دعوت دی۔

اس وقت ملک بھر میں سیکیورٹی کے انتظامات سنبھالنے کے لیے 3 لاکھ 71 ہزار دستے تعینات کیے گئے تھے جو 2013 کے انتخابات سے 3 گناہ زیادہ تھے۔

الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کا بیان ان کے خط کے ایک روز بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے مختلف صوبوں میں ضمنی انتخابات اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشنز میں فوج کی تعیناتی کی درخواست کی تھی۔