بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پنجاب  کا ٹیکس فری بجٹ پیش،  تنخواہوں میں 10، پنشن میں 5فیصد اضافہ

لاہور:  پنجاب کے وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے صوبائی اسمبلی میں 5 ہزار 335 ارب روپے مالیت کا ٹیکس فری بجٹ برائے مالی سال 26-2025 پیش کردیا۔
تقریر میں صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ پنجاب کے وسائل کا درست استعمال کیا جا رہا ہے، عوامی خدمت کا تاریخی پیکیج پیش کر رہے ہیں، معاشی نظم و ضبط کی وجہ سے گورننس بہتر ہورہی ہے، ای ٹینڈرنگ اور گڈ گورننس کی وجہ سے کوئی اسکینڈل نہیں بنا، بجٹ میں صحت،تعلیم اور زراعت پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے کہا کہ گزشتہ سال کی طرح بجٹ 26-2025 بھی ٹیکس فری ہے، ماحولیاتی تبدیلی جیسے سنگین مسئلے کے خلاف اقدامات کیے گئے ہیں، آئی ٹی اور صنعتی شہر آباد ہورہے ہیں، بجٹ 26-2025 پنجاب میں ترقی کے نئے ریکارڈ قائم کرے گا اور عوام کو ریلیف ملے گا۔
صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ مریم نواز پنجاب کو غربت اور بے روزگاری سے پاک کر رہی ہیں، نوجوانوں کے لیے ترقی کے راستے کھول دیے، پنجاب میں طلبہ کوبلا تفریق لیپ ٹاپ دیے گئے، پنجاب میں دن رات ترقیاتی کام ہو رہے ہیں، پنجاب مریم نواز کی قیادت میں ترقی کررہا ہے۔
انہوںنے کہا کہ پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں47 فیصد اضافہ کیا گیا، تاریخ میں پہلی بار موٹرویز پر ایمبرجنسی ایمبولینس سروس متعارف کروا رہے ہیں، سی ایم پنجاب چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت 4300 سے زائد سرجریز کی گئیں، پنجاب میں 20 ہزار مریضوں کو مفت ڈائیلائسز سہولت فراہم کی گئی۔
کارڈ کے تحت 10 لاکھ کسانوں کو106 ارب روپے کے بلاسود قرضے دیے، پنجاب کے اضلاع میں ایک ارب 10 کروڑ روپے کی لاگت سے ماڈل ایگری مالز اسکیم شروع کی ہے، ناررووال، اوکاڑہ اور لیہ میں میڈیکل کالجز بنائے جارہے ہیں۔
مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے کہا کہ پنجاب میں مفت ادویات کے لیے خطیر رقم خرچ کی گئی، فوڈ نیوٹریشن پروگرام شروع کیا گیا ہے، سرگودھا میں نوازشریف کاررڈیالوجی انسٹیٹیوٹ بنایا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف فتح پرپوری قوم کو سلام پیش کرتا ہوں، پاک فوج نے تاریخی کامیابی حاصل کی، جنگ کےدوران وزیراعلیٰ نےپنجاب میں قائدانہ کردار ادا کیا، اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کی مذمت کرتے ہیں، ایران پر بلا جواز حملہ قابل مذمت ہے۔
وزیر خزانہ پنجاب نے کہا کہ سی ایم پنجاب اسکیم کےتحت یونیورسٹی کو 27 ارب روپے مالیت کےلیپ ٹاپ دیے جائیں گے، اسکولوں میں سہولیات کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے کہا کہ شعبہ صحت کے لیے ترقیاتی بجٹ میں 181 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، شعبہ صحت کے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 450 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوازشریف کینسر انسٹیٹیوٹ ریسرچ سینٹر کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے ہیں، نوازشریف میڈیکل ڈسٹرکٹ کے قیام، لینڈ ایکوزیشن کے لیے 109 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، مریم نواز ہیلتھ کلینک پروگرام کے لیے 9 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب کے بجٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ بڑی خوشی ہے اللَہ کے فضل سے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، دوسرا سال ہے پنجاب نے نیا ٹیکس نہیں لگایا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبے میں 77 سال کی تاریخ میں سب سے زیادہ رقم محتص کی ہے، تاکہ ہمارے نوجوان جو ملک کا مستقبل ہیں، وہ ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بن سکیں۔

قبل ازیں وزیراعلی مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 27 واں اجلاس ہوا جس میں صوبائی کابینہ نے نئے مالی سال 26-2025 کے بجٹ کی منظوری دے دی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بجٹ دستاویز پر دستخط کر دیئے۔

مریم نواز نے صوبائی کابینہ کے 27 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پائی پائی عوام کی امانت ہے، اللّٰہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہیں، زیرو ٹیکس اور سب سے بڑا ڈویلپمنٹ بجٹ ہے۔

دوسری جانب سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پنجاب کے بجٹ کا مجموعی حجم 5335 ارب روپے ہے، بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا، کسی ٹیکس کی شرح میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں پنجاب کے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کا روڈ میپ بھی دیا گیا ہے، ایک سال کے دوران خرچ کئے گئے ہر روپے کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے گی۔