ایران کی القدس فورس کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قاآنی کی مبینہ شہادت سے متعلق افواہوں کے بعد ان کی عوامی سطح پر موجودگی کی ویڈیوز سامنے آ گئی ہیں۔ ایران کے اتحادی گروپوں سے وابستہ متعدد میڈیا اداروں، بشمول حوثی گروپ کے المنار ٹی وی، نے ایسی فوٹیج نشر کی ہے جس میں اسماعیل قاآنی کو تہران میں ریلی کے شرکاء کے درمیان دیکھا جا سکتا ہے۔
اگر یہ ویڈیوز درست ثابت ہو جائیں تو وہ اسرائیلی حملے میں قاآنی کی شہادت سے متعلق پھیلائی گئی خبروں کو مسترد کر دیں گی۔
🚨⚡️BREAKING
The commander of the Quds Force of the Iranian Revolutionary Guard, Ismail Qaani, appeared in Tehran.
This is his first appearance since the war, and Israel claimed it had killed him. pic.twitter.com/LstsRdDvJh
— RussiaNews 🇷🇺 (@mog_russEN) June 24, 2025
اکتوبر 2024 میں لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد اطلاعات تھیں کہ جنرل اسماعیل قاآنی وہاں موجود تھے اور ایران سے ان کا رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی تھیں کہ وہ اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔
بعدازاں متعدد رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ اسماعیل قاآنی ایران پر ہونے والے ابتدائی حملوں میں شہید کردئے گئے ہیں۔
🚨BREAKING: 🇮🇷💥🇮🇱 Iran's Quds force commander, brigadier general Ismail Qaani has been martyred in Israeli strikes. pic.twitter.com/Oyq0VvaYym
— Defense Intelligence (@DI313_) June 13, 2025
یہاں تک کہ ایرانی میڈیا نے بھی شہداء میں ان کی تصویر شامل کر لی تھی۔
Iranian television showed a photograph of General Ismail Qaani, commander of the Islamic Revolutionary Guard Corps' Quds Force, along with images of other martyrs during the broadcast. pic.twitter.com/E8S6OvEiuE
— Sprinter Observer (@SprinterObserve) June 14, 2025
خیال رہے کہ جنرل اسماعیل قاآنی کو 2020 میں القدس فورس کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا، جب سابق کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی بغداد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں شہید ہو گئے تھے۔ القدس فورس، ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک عسکری کارروائیوں کی نگران شاخ ہے۔
حالیہ ویڈیوز میں جنرل قاآنی کو تہران میں عوام کے درمیان موجود دیکھے جانے سے ان کی خیریت کی تصدیق ہو گئی ہے، جو مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔









