تہران:ایرانی پارلیمنٹ نے ملک کے لیے جاسوسی کی سزا میں اضافے سے متعلق ترمیمی قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی ہے۔
نظر ثانی شدہ متن کے مطابق اگر کوئی دشمن ریاستوں اور گروہوں کے لیے کسی بھی انٹیلیجنس اور جاسوسی کی سرگرمی اور آپریشنل کارروائی میں ملوث پایا گیا تو اس کو پھانسی کی سزا سے لے کر جائیداد تک کا ضبط کیا جانا شامل ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی ) کے ،مطابق قرارد کے متن میں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کو دشمن ریاستوں اور گروہوں کی شناخت کرنے کے اختیار کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے اور وزارت انٹیلیجنس کو دشمن نیٹ ورکس کی شناخت کے لیے ذمہ دار اتھارٹی کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
نئی قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ( جنھیں پہلے سے ہی دشمن ریاستیں تصور کیا جاتا ہے) کو چھوڑ کر سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل دیگر دشمن ریاستوں اور گروہوں کی نشاندہی کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
اس سے پہلے پیش کردہ اس قرارداد میں مخالف ریاست یا گروہ کی کوئی خاص تعریف فراہم نہیں کی گئی تھی اور گارڈین کونسل نے قرارداد کو پارلیمنٹ واپس بھیجنے کی ایک وجہ وضاحت کی اس کمی کو قرار دیا تھا۔
اصل قرارداد کا ایک اور آرٹیکل جس میں ترمیم کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے سزاؤں کے تعین سے متعلق ہے جو دشمن یا غیر ملکی نیٹ ورکس کو ویڈیوز یا معلومات بھیجتے ہیں اور اس کا مقصد عوام میں تقسیم پیدا کرنا یا قومی سلامتی کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔
نئی قرارداد کے تحت ان اقدامات کو جرم قرار دے کر اس کی سزا قید اور حکومت اور عوامی خدمات سے مستقل برخاستگی ہے۔
حتمی قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سزائے موت کے علاوہ دیگر سزاؤں کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی جبکہ سزائے موت کے خلاف سپریم کورٹ میں زیادہ سے زیادہ 10 دن کے اندر اپیل کی جا سکتی ہے۔
یہ قراردار ایسے وقت میں منظور کی گئی ہے جب ایران پر اسرائیلی حملے کے آبعد سے شائع ہونے والی متعدد رپورٹس میں ایرانی سرزمین کے اندر وسیع پیمانے پر انٹیلی جنس اور آپریشنل دراندازی کی نشاندہی کی گئی تھی۔
پارلیمنٹ میں اس بل کی منظوری ایران میں متعدد وکلاء کی جانب سے تنقید اور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق کی جانب سے تشویش کا باعث بنی۔
دشمن ریاست کے لیے جاسوسی پر جائیداد ضبط اور پھانسی کی سزا ہو گی‘: ایرانی پارلیمنٹ نے جاسوسی کی سزا سخت کرنے والی ترمیمی قرارداد منظور کر لی








