کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز VI سے ملنے والی معروف ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش کے معاملے کی تفتیش میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اداکارہ کی موت کی وجہ جاننے کے لیے ان کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے، جب کہ ان کے فلیٹ سے حاصل کیے گئے مختلف نمونے جامعہ کراچی کی فرانزک لیبارٹری کو بھجوا دیے گئے ہیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق تحقیقات سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 9 نمونے فرانزک لیب کو موصول ہوئے ہیں جن میں اداکارہ کے بھائی نوید اصغر کا بلڈ سیمپل بھی شامل ہے۔ اس سیمپل کی مدد سے ڈی این اے تصدیق کی جائے گی تاکہ لاش کی شناخت اور دیگر پہلوؤں کی تصدیق کی جا سکے۔
فرانزک ماہرین نے پوسٹ مارٹم اور اپارٹمنٹ کے معائنے کے دوران 4، 4 نمونے حاصل کیے تھے۔ ان نمونوں کی جانچ سے موت کی اصل وجہ سامنے آنے کی توقع ہے۔
پس منظر
42 سالہ اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی 2025 کو ان کے کرائے کے فلیٹ سے اُس وقت ملی جب بقایا کرایہ نہ ادا کرنے پر عدالتی حکم کے تحت مکان خالی کروایا جا رہا تھا۔ لاش شدید گل سڑ چکی تھی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی موت کئی ماہ قبل، ممکنہ طور پر اکتوبر 2024 میں ہو چکی تھی۔
پولیس کے مطابق اپارٹمنٹ اندر سے بند تھا اور زبردستی داخل ہونے کے کوئی آثار نہیں ملے، اس لیے ابتدائی طور پر قتل کے امکان کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ تاہم، حتمی نتیجہ فرانزک رپورٹ کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
اداکارہ حمیرا اصغر کو لاہور کے ماڈل ٹاؤن قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا، جہاں ان کے والد ڈاکٹر اصغر علی، بھائی نوید اصغر، چچا محمد علی سمیت عزیز و اقارب اور اہل علاقہ نے شرکت کی۔
ید اصغر کا کہنا تھا کہ ان کی بہن سے ایک سال سے رابطہ منقطع تھا، جبکہ چچا محمد علی نے بتایا کہ وہ کئی برسوں سے کراچی میں مقیم تھیں اور ہر دو سے تین ماہ بعد لاہور آتی تھیں۔ ان کے کراچی میں قیام کے بارے میں خاندان کو زیادہ معلومات نہیں تھیں۔
یاد رہے کہ حمیرا اصغر فلم جلیبی (2015) اور اسٹیج ڈرامے تماشہ گھر میں اپنے کرداروں کی وجہ سے مشہور تھیں۔ وہ ایک باصلاحیت مصورہ اور مجسمہ ساز بھی تھیں جنہیں سوشل میڈیا پر خاصی مقبولیت حاصل تھی۔ ان کا انسٹاگرام اکاؤنٹ 7 لاکھ 15 ہزار فالوورز پر مشتمل تھا، اور ان کی آخری پوسٹ 30 ستمبر 2024 کو سامنے آئی تھی۔









