بلغاریہ کی مشہور نابینا پیشگو گو، بابا وانگا، جنہیں دنیا بھر میں “بلقان کی نوسٹراڈیمس” کے نام سے جانا جاتا ہے، نے اپنی زندگی میں کئی حیران کن پیشگوئیاں کیں جو بعد میں درست ثابت ہوئیں۔ بابا وانگا 1911 میں پیدا ہوئیں اور 1996 میں انتقال کر گئیں۔ ان کی بینائی ایک طوفان کے دوران اس وقت ختم ہوئی جب وہ صرف 12 برس کی تھیں، اور اس کے بعد انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مستقبل دیکھنے کی خاص صلاحیت عطا ہوئی ہے۔
دنیا کے اختتام تک پیشگوئیاں
بابا وانگا کی پیشگوئیاں 5079 تک پھیلی ہوئی ہیں، جس کے متعلق ان کا ماننا تھا کہ یہ دنیا کے خاتمے کا سال ہوگا۔ ان کی کئی مشہور پیشگوئیاں، جیسے 9/11 کے حملے، سوویت یونین کی تحلیل، شہزادی ڈیانا کی موت، 2004 کا تھائی لینڈ سونامی، اور امریکہ میں باراک اوباما کی صدارت، بالکل درست ثابت ہوئیں۔
روس کا عالمی حکمرانی کا دعویٰ
انہوں نے مصنف ویلنٹن سیدوروف کو بتایا تھا کہ مستقبل میں روس دنیا پر حکمرانی کرے گا اور یورپ ایک بنجر سرزمین میں تبدیل ہو جائے گا۔ ان کے بقول، “سب کچھ برف کی طرح پگھل جائے گا، صرف ایک ہی باقی رہے گا — ولادیمیر کی شان اور روس کی شان۔” انہوں نے پیش گوئی کی کہ روس، بالخصوص صدر ولادیمیر پیوٹن، عالمی سطح پر ایک ناقابلِ تسخیر طاقت بن کر ابھریں گے۔
2046 میں طب اور سائنس میں انقلابی ترقی
بابا وانگا کے مطابق، سال 2046 تک طب اور سائنسی میدان میں حیران کن پیش رفت ہوگی۔ خاص طور پر مصنوعی اعضاء کی تخلیق میں ایسی کامیابیاں حاصل ہوں گی کہ یہ بڑی تعداد میں تیار کیے جائیں گے۔ یہ پیش رفت نہ صرف انسانی عمر میں اضافے بلکہ متعدد بیماریوں کے خاتمے اور عالمی طبی نظام میں انقلاب کا باعث بنے گی۔
2088 کا خوفناک وائرس
ان کی ایک اور تشویشناک پیشگوئی کے مطابق، 2088 میں ایک ایسا پراسرار وائرس سامنے آئے گا جو انسانی عمر کو غیرمعمولی تیزی سے کم کر دے گا۔ اس وائرس کی زد میں آنے والے افراد تیزی سے جسمانی زوال کا شکار ہوں گے، جو کہ دنیا بھر کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔









