اسرائیلی فوج نے غزہ کے لئے امداد لے جانے والی امدادی کشتی پر قبضہ کر لیا۔
فریڈم فلوٹیلا کولیشن کے امدادی جہاز کو اسرائیل کے تین بحری جہازوں اور ڈرونز نے گھیرے میں لیا اور فوجی کشتی پر چڑھ گئے جس کے بعد اسرائیلی فوج نے کشتی میں سوار نہتے بین الاقوامی سماجی کارکنوں پر اسلحہ تان لیا۔
میڈیارپورٹس کے مطابق امدادی کشتی اسرائیل کی ناکہ بندی توڑ کر غزہ امداد لے جانا چاہتا تھا۔ چھ اسرائیلی فوجیوں نے امدادی جہاز پر قبضہ کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہندالانامی امدادی جہاز اٹلی سے بچوں کے لئے دوائیں اور خوراک لے کر روانہ ہوا تھا۔ اکیس رکنی اسٹاف میں ڈاکٹرز، امدادی رضاکا، ارکان پارلیمنٹ سوار ہیں۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے امدادی کشتی پر قبضے کی تصدیق کردی۔ کہا گیا کہ غزہ جانیوالے ایک جہاز کو روک دیا ہے اور تمام مسافر محفوظ ہیں۔
اسرائیل فلسطینی علاقے میں انسانی بحران کو کم کرنے کے لئے امداد کی فراہمی سمیت کئی دوسرے اقدامات کر رہا ہے۔
امداد لے جانے والی کشتی پر اسرائیلی قبضے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ چالیس روز قبل بھی امدادی کشتی کو اسرائیلی فوج نے قبضے میں لیا تھا۔
دوسری جانب غزہ میں اسرائیل کی جارحیت جاری ہے، اسرائیلی فوج کی بمباری سے مزید 71 فلسطینی شہید ہوگئے۔ شہدا میں امداد کے منتظر 42 افراد بھی شامل ہی۔
عرب میڈیا کے مطابق بھوک سے مزید 5 بچے چل بسے۔ پانچ ماہ کی زینب دودھ نہ ملنے پر دم توڑ گئی۔ بھوک سے دم توڑنے والوں کی تعداد 127 سے زائد ہوگئی جن میں 85 بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ میں شہدا کی مجموعی تعداد 59 ہزار 733ہوگئی ہوگئی۔ ایک لاکھ چوالیس ہزار چار سو ستتر فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔









