ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک) روس کے معروف ادارے گامیلیا نیشنل ریسرچ سینٹر آف ایپیڈیمیالوجی اینڈ مائیکروبیالوجی — جو اس سے قبل اسپوتنک V ویکسین تیار کر چکا ہے نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی دنیا کی پہلی ذاتی نوعیت کی mRNA میلانومہ ویکسین کے انسانی تجربات کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔
اس جدید ویکسین کو مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ہر مریض کے انفرادی جینیاتی ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کیا جائے گا، تاکہ یہ ویکسین جسم کے مدافعتی نظام کو خاص طور پر کینسر کے خلیات کو نشانہ بنانے کے قابل بنا سکے۔
ادارے کے ڈائریکٹر الیکزنڈر گنٹسبرگ کے مطابق، یہ ویکسین ستمبر یا اکتوبر 2025 سے روسی آنکولوجی انسٹیٹیوٹس کے تعاون سے انسانی رضاکاروں پر تجرباتی طور پر استعمال کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آنکولوجی اور پرسنلائزڈ میڈیسن کے میدان میں ایک “سنگِ میل” ثابت ہو گا۔
میلانومہ کیا ہے؟
میلانومہ ایک خطرناک قسم کا جلد کا کینسر ہے، جو میلانوسائٹس (رنگ دینے والے جلدی خلیات) سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ تیزی سے جسم کے دیگر حصوں میں پھیل سکتا ہے۔
mRNA ویکسین کیا ہے؟
mRNA (میسنجر آر این اے) ایک ایسا مالیکیول ہے جو DNA سے حاصل کردہ ہدایات کو خلیے کے اندر موجود پروٹین بنانے والے نظام تک پہنچاتا ہے۔ ویکسینز میں اسے استعمال کر کے جسم کے مدافعتی نظام کو مخصوص بیماریوں سے لڑنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ویکسین کینسر کے علاج میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ ہر مریض کے لیے الگ اور مخصوص طریقے سے تیار کی جائے گی۔









