وفاقی حکومت کی نان ٹیکس آمدن میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو مالی سال 2024-25 کے دوران 4,959 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اس میں سب سے بڑا حصہ پیٹرولیم لیوی کی ریکارڈ وصولیوں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے حاصل ہونے والے منافع کا ہے۔
گزشتہ سال کی نسبت 1,468 ارب روپے کا اضافہ
رپورٹس کے مطابق حکومت کی نان ٹیکس آمدن میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 1,468 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر پیٹرولیم لیوی کی مد میں بڑھتی ہوئی وصولیوں اور اسٹیٹ بینک سے حاصل شدہ منافع کی منتقلی کے باعث ممکن ہوا ہے۔
پیٹرولیم لیوی کی وصولیاں بلند ترین سطح پر
گزشتہ مالی سال میں پیٹرولیم لیوی کی وصولیاں 1,019 ارب روپے تھیں، جو اب بڑھ کر 1,220 ارب رو پے ہو چکی ہیں۔ رواں مالی سال میں حکومت نے اس مد میں 1,468 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
فی الحال پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی 78 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی جس کے ذریعے اگلے مالی سال 2025-26 میں تقریباً 48 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے۔
اسٹیٹ بینک کا منافع دوسرا بڑا ذریعہ
نان ٹیکس آمدن میں دوسرا بڑا حصہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع کا ہے، جو 2,619 ارب روپے تک جا پہنچا ہے، جو مجموعی آمدن میں قابل ذکر حصہ ادا کرتا ہے۔
عوام پر بوجھ اور مہنگائی کا خدشہ
ماہرین معاشیات کے مطابق پیٹرولیم لیوی میں مسلسل اضافہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالے گا ۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
پیٹرولیم لیوی سے حکومت کی نان ٹیکس آمدن 4.96 کھرب روپے تک جا پہنچی








