بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نان فائلرز کیلئے بری خبر، بینک سے رقم نکلوانے پر ٹیکس بڑھادیاگیا  

حکومت نے ٹیکس نیٹ میں توسیع کی پالیسی کے تحت نان فائلرز کے لیے بینک سے رقم نکلوانے پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی جبکہ جائیداد کی خرید و فروخت پر بھی ٹیکس کے نئے سلیبزعائدکئے گئے
تفصیلات کے مطابق نان فائلرز کے لیے یومیہ 50 ہزار روپے سے زائد رقم نکلوانے پر ٹیکس کی شرح 0.6 فیصد سے بڑھا کر 0.8 فیصد کر دی گئی ہے۔ یہ ٹیکس ایڈوانس اور ایڈجسٹیبل ہوگا، اور ہر بینکنگ کمپنی اسے وصول کرنے کی مجاز ہوگی۔ یہ اضافہ ان افراد پر لاگو ہوگا جو ایف بی آر کی ایکٹیو ٹیکس پیئرز لسٹ میں شامل نہیں ہیں۔
پراپرٹی کی خرید و فروخت پر نئے سلیبزرکھ دیئے گئے
ایف بی آر نے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری اور منتقلی پر عائد ایڈوانس ٹیکس میں بھی تبدیلیاں کی ہیں
پراپرٹی خریدنے والوں کے لیے ٹیکس میں کمی کی گئی ہے تاکہ ریلیف فراہم کیا جا سکے
5 کروڑ روپے تک کی پراپرٹی پر ٹیکس 3 فیصد سے کم ہو کر 1.5 فیصد کر دیا گیا۔
10 کروڑ روپے تک کی پراپرٹی پر ٹیکس 3.5فیصدسے گھٹا کر 2 فیصدکر دیا گیا۔
10 کروڑ سے زائدمالیت کی پراپرٹی پر ٹیکس 4فیصد سے کم کر کے 2.5 فیصدکر دیا گیا۔
دوسری جانب پراپرٹی فروخت یا منتقلی کرنے والوں کے لیے ہر سلیب میں 1.5 فیصد کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ یہ اقدام فروخت کنندگان کی جانب سے حاصل کردہ کیپیٹل گین کی ایڈجسٹمنٹ کے مقصد سے کیا گیا ہے۔
ان ترامیم کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 236C اور 236K میں رد و بدل کیا گیا ہے۔ ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ٹیکس نظام کو مؤثر بنانا، نان فائلرز پر دباؤ بڑھانا اور فائلرز کو ریلیف دینا ہے۔