بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

جی پی ٹی5 کا آغاز، صارفین کی ملی جلی آراء ، کچھ نے سراہا، زیادہ تر نے مایوس کن قرار دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اوپن اے آئی نے اپنے نئے اور طویل عرصے سے زیرِانتظار ماڈل جی پی ٹی-5 کی لانچنگ کا اعلان کر دیا۔ کمپنی کے سی ای او سیم آلٹ مین نے اسے دنیا کا سب سے ذہین رائٹنگ اور کوڈنگ ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منطقی سوچ کی صلاحیت کے ساتھ تیار کیا گیا ہے اور مفت استعمال کے لیے دستیاب ہے۔ لیکن ماڈل کے سامنے آتے ہی آن لائن کمیونٹی میں بحث چھڑ گئی اور خاص طور پر تجربہ کار صارفین کی جانب سے سخت تنقید سامنے آئی۔

ریڈٹ پر سب سے زیادہ وائرل ہونے والی ایک پوسٹ میں ایک صارف نے جی پی ٹی-5 کو “مایوس کن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے جوابات بے جان، مختصر اور کم ذاتی انداز کے ہیں۔ کئی پلس یوزرز نے شکایت کی کہ چند گھنٹوں کے اندر پرامپٹس کی حد ختم ہو جاتی ہے، جو پہلے کے مقابلے میں بڑا منفی فرق ہے۔

مزید برآں، اوپن اے آئی نے پرانے ماڈلز ختم کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے، جس سے وہ صارفین خاصے ناخوش ہیں جو اپنے پروجیکٹس میں پرانے ورژنز پر انحصار کرتے تھے۔ کچھ کا ماننا ہے کہ نیا ماڈل کارکردگی میں کسی بڑی چھلانگ کے بجائے کئی پہلوؤں میں پیچھے چلا گیا ہے۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ شاید کمپنی نے اخراجات کم رکھنے کے لیے ماڈل کو محدود کیا ہے، کیونکہ بڑے AI ماڈلز بجلی اور وسائل دونوں کے لحاظ سے مہنگے اور ماحول پر بوجھ ڈالنے والے ہوتے ہیں۔

چند صارفین نے طنزیہ انداز میں اسے “اوپن اے آئی کا شِرنک فلیشن” کہا — یعنی کم معیار میں نیا ورژن پیش کرنا۔ پروگرامرز کا بھی یہی کہنا ہے کہ کوڈنگ ٹیسٹس میں کوئی نمایاں بہتری نظر نہیں آئی۔ البتہ تحقیقاتی ادارہ METR کے مطابق جی پی ٹی فائیو اتنا طاقتور نہیں کہ خطرناک حد تک تیز رفتاری سے تحقیق کو آگے بڑھا سکے، جو ایک طرح سے مثبت پہلو ہے۔

سیم آلٹمین کا کہنا ہے کہ جی پی ٹی-5  کمپنی کا اب تک کا سب سے ذہین ماڈل ہے اور ان کی ترجیح یہ ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جائے اور قیمت کم رکھی جائے۔ ان کا وعدہ ہے کہ مستقبل میں مزید بہتر اور طاقتور ماڈلز متعارف کرائے جائیں گے۔