اسلام آباد (نیوز ڈیسک) تحریک انصاف کے اندرونی معاملات اور مستقبل کی قیادت کے حوالے سے حالیہ دنوں میں کئی انکشافات اور قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں، جنہوں نے پارٹی کے اندرونی دھڑوں اور طاقت کی سیاست کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
صحافی علی وارثی نے ایک نجی خبر رساں ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ علیمہ خان کے بیٹے پر حسان نیازی کو وہ پتلون دینے کا الزام ہے جو بعد میں ایک جلسے کے دوران حسان نیازی نے لہرائی تھی۔ یہ معاملہ پارٹی کے اندر موجود اختلافات اور پس پردہ سیاسی سودے بازی کی خبروں کو مزید تقویت دے رہا ہے۔
صحافی حسن افتخار کے مطابق، علیمہ خان کے بیٹے نے بیرون ملک سیاسی پناہ کی درخواست اپنے وکیل کے ذریعے اچانک واپس لے لی اور پاکستان کا رخ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کسی سطح پر یقین دہانی کرا دی جائے کہ واپسی کے بعد کوئی قانونی یا سیاسی کارروائی نہیں ہوگی۔ حسن افتخار کے مطابق، اس اقدام کے پیچھے کسی ڈیل یا پس پردہ سیاسی سمجھوتے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ علیمہ خان پر یہ الزامات بھی ہیں کہ وہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ میں اضافے کے لیے خفیہ رابطے کر رہی ہیں اور انہیں اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بعض معاملات میں رعایت بھی حاصل رہی ہے۔ اس تناظر میں ان کے بیٹے کی اچانک واپسی ایک اہم اشارہ سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر اس وجہ سے کہ وہ پہلے سیاسی پناہ کے لیے یہ مؤقف اختیار کر چکے تھے کہ انہیں پاکستان میں جان کا خطرہ ہے، اور عام طور پر ایسی صورتحال میں وطن واپسی آسان نہیں ہوتی۔
سیاسی تجزیہ کار وقاص حبیب رانا کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر قیادت کی دوڑ میں بشریٰ بی بی اور علیمہ خان دونوں کے نام سامنے آ رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ بشریٰ بی بی اس وقت بنی گالہ میں موجود ہیں، جبکہ علیمہ خان پارٹی کے سوشل میڈیا معاملات میں اثر انداز رہی ہیں۔ بعض کارکنوں کا خیال ہے کہ یہ دونوں شخصیات اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش میں ہیں اور مستقبل میں پارٹی کی سمت کا تعین اس بات پر بھی منحصر ہوگا کہ عمران خان کے بعد کس کو ترجیح دی جاتی ہے۔
پارٹی کے اندر قیادت کی بحث کا ایک اور پہلو شاہ محمود قریشی سے جڑا ہے۔ بعض حلقے سمجھتے ہیں کہ وہ پارٹی کے اندر وسیع پیمانے پر مقبولیت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران خان کے سخت حامی ان کے علاوہ کسی اور کو قائد تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ماضی میں بھی قریشی پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ مشکل حالات میں محتاط رویہ اپناتے ہیں اور اکثر سیاسی حالات دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔









