چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبوں میں کامیابی کا تناسب 90 فیصد تک پہنچ چکا ہے اور یہ کامیابی دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
ایک سیمینار سے خطاب میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ وقت کے ساتھ سی پیک سے متعلق سکیورٹی کے چیلنجز بھی حل ہو جائیں گے اور اس منصوبے کے فوائد پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔
چینی سفیر نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین انسداد دہشت گردی کے میدان میں گہرا تعاون کر رہے ہیں۔ ترقی کی راہ میں جو بھی مشکلات ہیں، انہیں باہمی تعاون سے حل کیا جا سکتا ہے۔
اقتصادی ترقی کی جھلکیاں
جیانگ زائی ڈونگ نے سی پیک کے ذریعے پاکستان میں براہِ راست سرمایہ کاری، روزگار اور بنیادی ڈھانچے میں خاطر خواہ بہتری کا بھی ذکر کیا، جن میں شامل 25.4 ارب ڈالر کی براہِ راست سرمایہ کاری،236,000 سے زائد روزگار کے مواقع،510 کلومیٹر سپرہائی ویز ،8,000 میگاواٹ سے زائد بجلی پیداوار،886 کلومیٹر پاور ٹرانسمیشن نیٹ ورک شامل ہے۔ یہ تمام پیش رفت سی پیک کو پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی کا ایک ستون بناتی ہیں۔
اتحادی حکمت عملی اور مستقبل کے منصوبے
چینی سفیر نے کہا کہ تعاون کے ذریعے ترقی اور سیکیورٹی دونوں کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے”۔ چین چاہتا ہے کہ سی پیک کی تیاری اور عمل درآمد میں معیار اور رفتار دونوں کو یکجا کیا جائے، اور پاکستان کے ساتھ “اشتراکِ مستقبل” کی ایک مضبوط بنیاد قائم کی جائے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑنے سیمینار میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی وقت کی آزمائشوں پر پورا اتری ہے اور یہ نسل در نسل جاری رہنے والی شاندار میراث ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیپیک صرف ایک راہداری نہیں بلکہ خوابوں اور امیدوں کا مشترکہ سفر ہے، جو خطے میں ترقی، روزگار، تحفظ اور خوشحالی کو یقینی بناتا ہے۔خنجراب سے گوادر تک سی پیک نے روزگار، زراعت، صنعتی زونز، ثقافت، تجارت و سرمایہ کاری نئے مواقع پیدا کیے ہیں — ۔ انہو ں نے کہاکہ وزیراعظم کا وژن گوادر کو جدید اور محفوظ شہر بنانا ہے، اور اس کے لیے بندرگاہ کو بین الاقوامی معیار کا بنایا جا رہا ہے۔
سی پیک کی کامیابی کا تناسب کتنے فیصد؟چین کا اہم بیان سامنے آگیا








