جنوبی کوریا نے عوامی تحفظ اور جرائم کی روک تھام کے لیے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک منفرد قدم اٹھاتے ہوئے ہولوگرافک پولیس اہلکار متعارف کرا دیے ہیں، جو نہ صرف دلچسپی کا باعث بنے ہیں بلکہ ابتدائی طور پر مؤثر بھی ثابت ہو رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ زندہ سائز تھری ڈی ہولوگرام پولیس اہلکار سیئول کے ایک پارک میں شام 7 بجے سے 10 بجے تک فعال رہتا ہے اور وہاں آنے والے سیاحوں اور شہریوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر کوئی پرتشدد یا ہنگامی صورتحال پیدا ہو، تو پولیس فوری ردعمل دے گی۔ یہاں ہر جگہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے نگرانی جاری ہے۔
جرائم میں نمایاں کمی
حکام کے مطابق اکتوبر 2024 سے مئی 2025 کے دوران اس علاقے میں جرائم کی شرح میں 22 فیصد کمی دیکھی گئی، جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ایک نمایاں بہتری ہے۔
جنگبو پولیس اسٹیشن کے چیف آن ڈونگ کا کہنا تھا کہ یہ ہولوگرام درحقیقت ایک اسمارٹ سکیورٹی ڈیوائس ہے، جو نہ صرف لوگوں کو تحفظ کا احساس دلاتی ہے بلکہ جرائم پیشہ افراد کے لیے ایک نفسیاتی رکاوٹ بھی بن جاتی ہے۔
ٹیکنالوجی اور تحفظ کا امتزاج
اگرچہ لوگ جانتے ہیں کہ یہ کوئی حقیقی پولیس اہلکار نہیں، لیکن اس کی موجودگی کا نفسیاتی اثر ایسا ہے کہ یہ بدامنی کی نیت رکھنے والوں کو دو بار سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
یہ نظام سمارٹ پولیسنگ کی ایک جدید مثال ہے، جس میں بغیر کسی جسمانی موجودگی کےٹیکنالوجی کے ذریعے شہریوں میں اعتماد اور تحفظ کا احساس پیدا کیا جاتا ہے۔ جنوبی کوریا ایک بار پھر یہ ثابت کر رہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو عوامی فلاح کے لئے کس طرح مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
جرائم کی روک تھام کیلئےہولوگرافک پولیس اہلکار تعینات








