ملک بھر میں مون سون کا نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چار دن یعنی 22 اگست تک مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے۔ یہ بارشیں صرف خوشگوار موسم کی نوید نہیں بلکہ خطرناک موسمی حالات کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے متعدد اضلاع میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ خاص طور پر لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور اسلام آباد میں تیز بارشوں کے ساتھ اربن فلڈنگ یعنی شہری سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔
پہاڑی علاقوں خاص طور پر آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ قلات، خضدار، لسبیلہ اور تربت جیسے بلوچستان کے اضلاع میں ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے سندھ کے تونسہ کے مقام پراونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کیا ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 5 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے۔ خطرہ ہے کہ پانی کی سطح مزید بلند ہو سکتی ہے، جس کے پیشِ نظر مقامی انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق تونسہ، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور ڈویژن کے تمام اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
دریائے سندھ کے کنارے آباد افراد کے فوری انخلاء کا حکم جاری ہو چکا ہے۔مساجد میں اعلانات اورریسکیو ٹیموں ذریعے شہریوں کو آگاہی دی جا رہی ہے۔ فلڈ ریلیف کیمپس میں خوراک، پانی، اور طبی امداد جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
عوام سے اپیل
محکمہ موسمیات اور ریسکیو اداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ
غیر ضروری سفرسے گریز کریں
نشیبی علاقوں اور برساتی نالوں کے قریب جانے سے پرہیز کریں
الرٹس اور ہدایات پرعمل کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے
بارشوں کا نیا سلسلہ: اگلے 4 روز میں شدید موسمی حالات کی پیشگوئی








