بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حکومت اور پی ٹی آئی میں جلد مذاکرات ، حکومتی وزیرکابڑادعویٰ سامنے آگیا

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات چند دنوں میں شروع ہو جائیں گے، تاہم عمران خان کی جیل سے رہائی ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ انہیں مذاکرات چند دنوں میں شروع ہوتے ہوئےدکھائی دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے ہم سے اور دیگر قیادت سے رابطے کیے ہیں اور ہمیں قائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بھی اس بات پر متفق ہے کہ وہ 9 مئی کے واقعات کے بعد قیادت کی سزاؤں اور نااہلیوں کے تناظر میں ’کسی نہ کسی راستے‘ کی تلاش میں ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال متعدد مقدمات میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات شدید خراب ہوگئے تھے۔

بعد ازاں دسمبر میں عمران خان نے ’کسی سے بھی‘ مذاکرات کے لیے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس کے جواب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی ایک کمیٹی بنائی تھی۔

تاہم کئی مذاکرات کے دور کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا اور مذاکرات اچانک ختم ہوگئے تھے، جبکہ 9 مئی کے کیسز میں پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں کو حالیہ دنوں میں سزائیں سنائی گئیں جس کے بعد یہ تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے تھے۔
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف کا کہنا تھا کہ مذاکرات پی ٹی آئی کی ٹیم اور قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کی قائم کردہ کمیٹی کے درمیان ہوں گے تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان مذاکرات میں عمران خان کی رہائی پر بات نہیں ہوگی کیونکہ یہ ’حکومت کے اختیار میں نہیں ہے۔
انہوں نےکہا کہ ہم انہیں درجنوں بار کہہ چکے ہیں کہ عدالتوں کا راستہ اختیار کریں، اپنی بےگناہی عدالت میں ثابت کریں جس کے بعد ہی بانی پی ٹی آئی کی رہائی ممکن ہے، حکومت کسی صورت انہیں آزاد یا رہا نہیں کر سکتی۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ اگر کوئی مسئلہ ہے جس پر پارٹی رہنما بات کرنا چاہتے ہیں یا پھر وہ ’سیاسی اسپیس یا سیاسی معاملات‘ پر گفتگو چاہتے ہیں تو ایسی بات چیت کا خیر مقدم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اس وقت 9 مئی کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کی ضرورت کے بارے میں انہیں ’قائل‘ کرنا ہوگا، کیونکہ ان مقدمات میں سے بہت سے پہلے ہی فیصلے ہو چکے ہیں۔
یاد رہے کہ عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں، وہ 190 ملین پاؤنڈ کے کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں اور 9مئی کے احتجاج سے متعلق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔